تحریک دعوتِ فقر(رجسٹرڈ)

تحریک دعوتِ فقر(رجسٹرڈ)

فقر کی تعلیمات کو عام کرنے اور اُمتِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو روحانی پاکیزگی کی طرف بلا کر ان کا تعلق باللہ مضبوط کرنے کے مقصد کی تکمیل کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے تحریک دعوتِ فقر کا آغاز فرمایا ہے۔ یہ تحریک فقر کی روحانی پاکیزگی پر مبنی تعلیمات کو تحریری طور پر کُتب، ماہانہ رسالہ ”سلطان الفقر” اور کتابچوں وغیرہ کی صورت میں پھیلا رہی ہے۔ مزید برآں تقریری طور پر اور زبانی گفت و شنید کے ذریعے بھی عام مسلمانوں تک فقر کا پیغام پہنچایا جا رہا ہے اور اسی سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اس ویب سائٹ کا آغاز کیا گیا ہے۔ فقر کی یہ تمام تعلیمات قرآن پاک ، احادیث اور تعلیماتِ فقراء پر مشتمل ہیں۔ تحریک دعوتِ فقر کے قیام کے اغراض و مقاصد یہ ہیں:

تحریک دعوتِ فقر کے قیام کے اغراض و مقاصد:

فقر

فقر کے لغوی معنی احتیاج کے ہیں۔ عام طور پر اس سے تنگ دستی’ غربت’ مفلسی اور ناداری مراد لی جاتی ہے۔ دینِ اسلام میں ”فقر” سے وہ راہ یا وہ طریق مراد ہے جو بندے اور اللہ کے درمیان سے تمام حجابات کو ہٹا کر بندے کو اللہ کے دیدار اور وصال سے فیض یاب کرتا ہے۔ ”فقر” دراصل دینِ اسلام کی حقیقت ہے۔ جو اولیاء کرام اور ہمارے سلف صالحین کا اللہ تک رسائی کا طریقہ رہا ہے لیکن دورِ جدید کے علمائے کرام اور مغرب زدہ طبقہ نے اس طریق اور علم سے ناواقفیت کی بنا پر عوام الناس کی توجہ اس راہ سے ہٹا کر ظاہریت پرستی کی طرف مبذول کرا دی ہے اور عوام روح اور اللہ کے تعلق کو بھلا کر صرف جسمانی اعمال و عبادات میں الجھ گئے ہیں۔ آج مسلمان بھی اس لفظ ”فقر” اور اس کی حقیقت سے اتنے ہی ناآشنا ہیں جتنے غیر مسلم ۔حالانکہ ہمارے آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فقر کو اپنا فخر فرمایا ہے اور اسے بطور خاص اپنی ذات سے منسوب فرمایا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد پاک ہے:اَلۡفَقۡرُ فَخۡرِیۡ وَالۡفَقۡرُ مِنِّی ترجمہ: فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔

دیدارِ الٰہی

غوث الاعظم حضرت سیّدناشیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ فرماتے ہیں:

مَنْ لَّمۡ یَعۡرِفُہٗ  کَیۡفَ یَعۡبُدُہٗ۔

ترجمہ: جو شخص اللہ کو پہچانتا ہی نہیں وہ اللہ کی عبادت کس طرح کر سکتا ہے۔”

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں:

جو شخص اللہ کہنے میں اللہ کی ذات کی معرفت و حقیقت سے آگاہ و آشنا نہیں وہ اللہ کی حقیقی یاد سے غافل ہے۔ (سلطان الوھم)

اللہ کو دیکھ کر’ پہچان کر عبادت کرنے میں جو خشوع و خضوع اور حضوری قلب کی کیفیت حاصل ہوتی ہے وہ دیکھے بغیر حاصل ہونا ناممکن ہے۔

یہی وجہ ہے کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بعثت اور عبادات کی فرضیت میں تیرہ سال کا وقفہ ہے’ اس دوران حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو معرفتِ الٰہی کی تعلیم دی۔ جب یہ تعلیم مکمل ہوئی تو ظاہری عبادات فرض کی گئیں تاکہ صحابہ رضی اللہ عنہم کی عبادات بے روح نہ ہوں۔

ذکرِ اسمِ اللہ ذات

مادی جسم کے اندر موجود باطنی انسان ایک جیتا جاگتا وجود ہے جو انسان کی توجہ کا طالب ہے۔ جس طرح مادی جسم کی تندرستی کے لیے صحیح غذا ضروری ہے اسی طرح باطنی وجود کی بھی غذا ہے جس سے وہ سکون محسوس کرتا ہے’ تندرست و توانا ہوتا اور قوت حاصل کرتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ  ط (الرعد۔28) 

ترجمہ: بے شک ”ذکر اللہ” سے ہی قلوب کو اطمینان اور سکون حاصل ہوتا ہے۔

یعنی اللہ کے اسم کے ذکر سے انسانی قلب یا روح کو سکون حاصل ہوتا ہے کیونکہ یہی اس کی غذا اور قوت کا باعث ہے۔ جو انسان اس ذکر سے روگردانی کرتا ہے اس کی روح کو غذا اور رزق نہیں ملتا جو اس کی زندگی اور قوت کے لیے ضروری ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

وَ مَنۡ اَعۡرَضَ عَنۡ ذِکۡرِیۡ فَاِنَّ لَہٗ مَعِیۡشَۃً ضَنۡکًا وَّ نَحۡشُرُہٗ یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ  اَعۡمٰی(طٰہٰ۔124)

  ترجمہ: ”بے شک جو ہمارے ذکر سے اعراض کرتا ہے ہم اس کی (باطنی) روزی تنگ کر دیتے ہیں اور قیامت کے روز اسے اندھا اٹھائیں گے۔” 

سلطان الاذکار ھو

اسمِ  اللہ ذات کے ذکر کی چار منازل ہیں اَللّٰہُ لِلّٰہُ  لَہُ  ھُو اسمِ اللہ ذات اپنے مسمّٰی ہی کی طرح یکتا ‘ بے مثل اوراپنی حیرت انگیز معنویت وکمال کی وجہ سے ایک منفرد اسم ہے۔اس اسم کی لفظی خصوصیت یہ ہے کہ اگر اس کے حروف کو بتدریج علیحدہ کردیا جائے تو پھر بھی اس کے معنی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی اورہر صورت میں اسمِ  اللہ ذات ہی رہتا ہے ۔ اسم اَللّٰہُکے شروع سے پہلا حرف اہٹا دیں تو لِلّٰہ رہ جاتا ہے اور اس کے معنی ہیں” اللہ کے لئے” اور یہ بھی اسمِ ذات ہے قرآن مجید میں ہے:لِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَافِی الْاَرْضِترجمہ: ”ﷲ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے”۔

تصور اسمِ اللہ ذات

سانسوں کے ساتھ اسمِ اللہ کے ذکر کے ساتھ ساتھ تصورِ اسمِ اللہ ذات بھی اللہ کی پہچان و معرفت حاصل کرنے کے لیے بہت ضروری ہے ۔کیونکہ کسی بھی چیز کی پہچان کا سب سے عمدہ اور اعلیٰ ذریعہ آنکھ اور بصارت ہے۔دیگر حواس اشیاء کی شناخت کے ناقص آلے ہیں۔جبکہ ”دیکھنے ” سے کسی بھی چیز کی پوری پوری پہچان ہو جایا کرتی ہے اس لیے آنکھ سے کیا جانے والا تصور اور پاس انفاس(سانس کے ذریعے) سے کیا جانے والا ذکر سب سے اعلیٰ اور افضل ہے۔ صرف یہی ذریعۂ معرفت اور وسیلۂ دیدارِ پروردِگار ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ ذکر کے ساتھ ساتھ تصورِ اسمِ اللہ کا حکم بھی دیتا ہے:

وَ اذۡکُرِ اسۡمَ رَبِّکَ وَ تَبَتَّلۡ  اِلَیۡہِ تَبۡتِیۡلًا  ؕ (مزمل۔8)

ترجمہ: (اے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) اپنے رب کے نام (اسمِ اللہ) کا ذکر کرو اورسب سے ٹوٹ کر اس ہی کی طرف متوجہ ہو جاؤ۔

تصور اسمِ محمدؐ

 فقر کی تاریخ میں پہلی بار ” اسمِ محمد ” بھی تصور کے لیے طالبانِ مولیٰ کو عطا کیا جارہا ہے۔جس طرح اسمِ” اللہ ”اللہ کا ذاتی نام ہے اور اس کی تمام صفات اور دیگر صفاتی ناموں کا احاطہ کرتا ہے اسی طرح اسم ” محمد”( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم )حضور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذاتی نام ہے اور اُن کی تمام صفات اور ذات کی تمام خوبیوں کا جامع ہے اور ان کی ذات سے سب سے زیادہ وابستہ ہے اسی لیے تصورِ اسمِ محمد مجلسِ محمدی کی حضوری کے لیے سب سے پُر اثر اور طاقتور ذریعہ ہے۔ جو باطن میں دیدارِ الٰہی سے پہلے اہم مقام ہے۔ جسے مجلسِ محمدی ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم )کی حضوری حاصل ہوگئی اسے کامل دین حاصل ہوگیا۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تصانیف میں اسمِ  اللہ ذات کے ساتھ ساتھ تصورِ اسمِ  محمد(صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) کے اسرار و رموز کوبھی کھول کر بیان فرمایا ہے بلکہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا فرمان ہے کہ مرشدِ کامل اکمل وہی ہے جو اسمِ  اللہ ذات اور اسمِ  محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کی راہ جانتا ہے۔ آپ اسمِ   اللہ ذات کے ساتھ ساتھ اسمِ  محمد (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) کے تصور کو بھی لازمی قرار دیتے ہیں۔

مرشد کامل اکمل

قرآنِ مجید میں بھی وسیلہ تلاش کرنے کا حکم ہے۔

یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَ وَ جَاہِدُوۡا فِیۡ سَبِیۡلِہٖ  لَعَلَّکُمۡ  تُفۡلِحُوۡنَ۔(سورۃ المائدۃ۔35)

ترجمہ: اے ایمان والو !تقویٰ اختیار کرواور اللہ کی طرف وسیلہ پکڑو۔اسمِ اللہ اور اسمِ محمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذکر اور تصور بھی تبھی بندے کو اللہ سے ملاتاہے جب یہ ذکر وتصور ایسے رہنما کی نگرانی میں کیا جائے جو اللہ سے وصال کی راہ جانتا ہو ۔جس طرح انسان کسی نئے راستہ پر چلنے سے پہلے’ جس سے وہ بالکل ناواقف ہو’ ضرور کسی کی رہنمائی حاصل کرتا ہے یا کسی بھی سبق اور تعلیم یا ہنر کو سیکھنے کے لیے اسے معلم کی ضرورت ہوتی ہے’ اسی طرح فقر کے اس باطنی سفر کی راہ سے نہ صرف انسان ناواقف ہے بلکہ اس راستے پر جگہ جگہ شیطان راہزن بن کر گھات لگائے بیٹھا ہے تاکہ انسان کو اس راہ سے بھٹکا سکے اور کبھی اللہ تک نہ پہنچنے دے۔

تحریک دعوتِ فقر کی ضرورت کیوں ؟

حاصل کلام یہ ہے کہ موجودہ دور میں فقر کی راہ اختیار کرنا پہلے سے بھی کہیں زیادہ ضروری ہوگیا ہے۔ ہر طرف لالچ’ کینہ’ بے راہروی’ افراتفری نے ڈیرے ڈال رکھے ہیں۔ مقصدِ حیات کے حصول کی طرف کوئی توجہ نہ ہونے کے باعث رضائے الٰہی بھی ہمارے موافق نہیں۔ علماء کرام کی تربیت گاہیں ظاہری عبادات کو اپنے اپنے طریقے سے عوام میں پھیلا کر فرقہ پرستی کو مزید ہوا دے رہی ہیں۔ دین کے ظاہری حصے پر تو بے تحاشا کام ہو رہا ہے لیکن دین کی روح یعنی معرفتِ الٰہی کے حصول پر کسی کی توجہ نہیں۔ نتیجہ سب کے سامنے ہے۔ سورۃ آلِ عمران میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

وَلۡتَکُنۡ مِّنۡکُمۡ اُمَّۃٌ یَّدۡعُوۡنَ اِلَی الۡخَیۡرِ وَ یَاۡمُرُوۡنَ بِالۡمَعۡرُوۡفِ وَ یَنۡہَوۡنَ عَنِ الۡمُنۡکَرِ ؕ وَ اُولٰٓئِکَ ہُمُ  الۡمُفۡلِحُوۡنَ۔(سورہ آلِ عمران104)

ترجمہ: ”تم میں سے ایک جماعت ایسی ہو جو بھلائی کی دعوت اور راہِ معرفت کا حکم دے اور برائی سے روکے اور وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔

”معروف” سے مراد ”واقف ہونا” ہے۔ ”امر بالمعروف” کے معنی اللہ سے واقف ہونے یا اللہ کی معرفت حاصل کرنے کا حکم دینے کے ہیں۔ ”نہی عن المنکر اور امر بالمعروف” ہر صاحبِ صدق مسلمان پر فرض ہے۔فقر کی راہ امر بالمعروف یا معرفت کی راہ ہے۔
راہِ فقر ہی امتِ مسلمہ کی ظاہری و باطنی درستگی کی راہ ہے۔ اس راہ سے رو گردانی کے باعث ہم دنیا میں ذلیل و رسوا ہیں۔ اقبال فرماتے ہیں:

کیا گیا ہے غلامی میں مبتلا تجھ کو

کہ تجھ سے ہو نہ سکی فقر کی نگہبانی

یہ فقر مردِ مسلمان نے کھو دیا جب سے

رہی نہ دولت سلمانیؓ و سلیمانیؑ

اقبال رحمتہ اللہ علیہ مسلم امت کو پھر سے اس فقر کو اختیار کرنے کی صلاح دیتے ہیں جو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا ورثہ اور مسلمانوں کی اصلاح کی راہ ہے۔

ہمت ہو اگر تو ڈھونڈ وہ فقر

جس فقر کی اصل ہے حجازی

اس فقر سے آدمی میں پیدا

اللہ کی شان بے نیازی

مومن کی اسی میں ہے امیری

اللہ سے مانگ یہ فقیری

تحریک دعوتِ فقر آپ کو دعوت دیتی ہے:

تحریک دعوتِ فقر کے قیام کا مقصد ہی لوگوں کو فقر کی دعوت دینا ہے تاکہ اسمِ اللہ ذات کے ذکر اور تصور سے راہِ فقر پر چل کر معرفتِ الٰہی حاصل کریں۔

کیونکہ

اللہ تعالیٰ کے دیدار اور معرفتِ الٰہی کے فریضہ کی ادائیگی کےلیے۔
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی مجلس کی حضوری اور ان سے بلاواسطہ فیض حاصل کرنے کےلیے۔
تزکیۂ نفس کے لیے۔
تصفیۂ قلب کے لیے۔
تجیلّۂ روح کے لیے۔
روحانی پاکیزگی اور ظاہری و باطنی درستی کے لیے۔
دنیا اور آخرت میں اللہ کے ہاں کامیابی کے لیے۔
عبادات میں قلب کی حضوری کے لیے۔
اللہ کے سوا غیر کی محتاجی سے نجات کے لیے۔
مقصدِ حیات میں کامیابی کے لیے۔
ذکر اسمِ اعظم ھو، تصور اسمِ اللہ ذات اور تصورِ اسمِ محمدصلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ضروری ہے اور اس کے لیے راہِ فقر اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
آئیں تحریک دعوتِ فقر میں شامل ہو کر راہِ فقر اختیار کریں اور ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات سے فقر کی منازل تک رسائی کی جدو جہد اور کوشش کریں۔