Tehreek-Dawat e Faqr Blog | تحریک دعوتِ فقر بلاگ

دینِ اسلام اللہ تک پہنچنے کا ایک زینہ ہے جس کے مختلف درجات ہیں۔ شریعت اس کا ابتدائی درجہ ہے،طریقت، حقیقت اور معرفت درمیانی درجے ہیں اور فقر (وحدت) اس کی انتہا ہے اور اس کی بنیاد عشق ہے۔ اگر بنیاد مضبوط نہیں ہوگی تو عمارت بھی پائیدار نہیں ہوگی اور اگر کوئی درجہ کم ہوگا تو بھی منزل تک پہنچنا مشکل اور بعض اوقات ناممکن ہوجاتا ہے۔

حضرت خواجہ بندہ نواز رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’ عشقِ حقیقی کے پانچ درجے بیان کیے ۔۔۔مزید پڑھیں

تمام مخلوقات کے خالق و مالک ربّ العالمین جل جلالہٗ کی بڑائی بیان کرنے کے بعد درود حضور پُر نور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر جن کی خاطر اللہ جلّ شانہٗ نے یہ ساری بزم سجائی اور سلام ہو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آل پر آپ کے اصحابؓ پر اور امہات المومنینؓ پر جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لا کر اور اطاعت اختیار فرماکر شمأ رسالت کے پروانوں کا کردار ادا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ دعوتِ توحید و رسالت میں معاون رہے۔ دنیا کو وجود میں لانے کے بعد مخلوق کی ہدایت ضروری تھی اس لیے اللہ تعا لیٰ نے اپنے پاکیزہ اور مقبول بندے انبیا مبعوث فرمائے جنہوں نے اللہ ربّ العزت کی تعلیم و ہدایت ۔۔۔مزید پڑھیں

تقویٰ

چار حروف پر مشتمل یہ لفظ (تقویٰ) مقصدِ حیات اور توشۂ آخرت ہے۔ تقویٰ دینِ کامل کی اساس اور بزرگانِ دین کا اثاثہ ہے ۔ تقویٰ اُمتِ مسلمہ پر ربّ کا احسان ہے، اس کی رضاہے ، درجۂ خاص ہے۔ تقویٰ کے بغیر مومن ادھورا ہے کیونکہ تقویٰ روح کا سکون اور ربّ کے دیدار کا ذریعہ اور خدا کے قرب و معرفت کی کنجی ہے۔ اگر تقویٰ کے لفظی معنی کو دیکھا جائے تو لفظ ’’تقویٰ‘‘ کے معنی ’’زرہ‘‘ کے ہیں جو ضرر سے محفوط رکھتی ہے۔ جبکہ شریعت میں اس کے معنی ہر اس عمل سے گریزکرنا ہے جو اللہ تبارک و تعا لیٰ کے غیظ و غضب ۔۔۔مزید پڑھیں

انسان کو زندگی میں بیشتر ایسے امور پیش آتے ہیں جن میں وہ تذبذب کا شکار ہو جاتا ہے۔ کرنے اور نہ کرنے دونوں پہلوؤں پر اس کی نظر ہوتی ہے۔ وہ سرِ دست یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ موجودہ حالات میں اسے کیا کرنا چاہیے؟ایسی صورت حال میں شریعت نے ہدایت دی ہے کہ اسے تمام مواقع پر از خود فیصلہ کرنے اور اپنی عقل و دانش پر اعتبار کرنے کی بجائے متعلقہ کام کے ماہرین فن ، اربابِ نظر اور ہمدرد افراد سے رائے معلوم کر لی جائے۔ پھر باہمی غوروفکر کے بعد جس جانب دل مائل ہو اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے اسے اختیار کرے۔ اس عمل کو مشورہ یا مشاورت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔صالح، کامیاب اور پُر امن زندگی گزارنے کے لیے  ۔۔۔مزید پڑھیں

اولیا کرام میں سب سے بلند مراتب عارفین کو عطا ہوتے ہیں لیکن عارفین میں بلند ترین مقام ’’سلطان الفقر‘‘ کا ہے۔ فقر عین ذات پاک ہے اور سلطان الفقر وہ ہستی ہوتی ہے جو ذاتِ حق کا عین ہو ۔ یہ کہنا بھی ہرگز غلط نہ ہو گا کہ سلطان الفقر کے حقیقی مقام و مرتبے کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
سلطان الفقر کون ہیں؟
سلطان الفقر ہستیوں کی شان اور مقام و مرتبے کے بارے میں سب سے پہلے بانی سلسلہ سروری قادری، نورِ ھُو، سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیفِ مبارکہ’’رسالہ روحی شریف‘‘ میں ذکر فرمایا۔ آپؒ فرماتے ہیں:
* ’’جان لے جب نورِ احدی نے وحدت کے گوشۂ تنہائی سے نکل کر کائنات (کثرت) میں ظہور کا ارادہ فرمایا تو اپنے حسن کی تجلی سے رونق بخشی، اِس حسنِ بے مثال اور شمعِ جمال پر دونوں جہان پروانہ وار جل اُٹھے اور میم احمدی کا نقاب اوڑھ کرصورتِ احمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اختیار کی۔ پھر جذبات اور ارادات کی کثرت سے سات بار جنبش فرمائی جس سے سات ارواحِ فقرا با صفا فنا فی اللہ ،بقا باللہ تصورِ ذات میں محو ،تمام مغز بے پوست حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ستر ہزار سال پہلے، اللہ تعالیٰ کے جمال کے سمندر میں غرق آئینہ یقین کے شجر پر رونما ہوئیں۔ انہوں نے ازل سے ابد تک ذاتِ حق کے سوا کسی چیز کی طرف نہ دیکھا اور نہ غیر حق کو کبھی سنا۔ وہ حریمِ کبریا میں ہمیشہ وصال کا ایسا سمندر بن کر رہیں جسے کوئی زوال نہیں۔ کبھی نوری جسم کے ساتھ تقدیس و تنزیہہ میں کوشاں رہیں اور کبھی قطرہ سمندر میں اور کبھی سمندر قطرہ میں اوراِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ (جہاں فقر کی تکمیل ہوتی ہے وہی اللہ ہے)کے فیض کی چادر ان پر ہے۔۔۔مزید پڑھیں

سیّد الکونین، سلطان الفقر، سلطان الاولیا، محبوبِ سبحانی، قطبِ ربانی، غوثِ صمدانی، شہبازِ لامکانی، پیر دستگیر، بازِ اشہب، پیرانِ پیر، نورِ مطلق، مشہود علی الحق، حقیقت الحق، قطب الکونین، قطب الاقطاب، غوث الثقلین، پیر میراں غوث الاعظم محی الدین سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وزیر اور صاحبِ حضور ہیں۔ فقر میں آپ رضی اللہ عنہٗ کا مقام اور مرتبہ فہم و بیان سے بالاتر ہے۔ ہر ولی اور فقیر آپ رضی اللہ عنہٗ کے در کا غلام اور بھکاری ہونے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کا فرمان مبارک ہے ’’میرا قدم تمام اولیا کی گردن پر ہے۔‘‘ اسی سے آپ رضی اللہ عنہٗ کے مقام و مرتبہ کا اندازہ ہو جاتا ہے۔
اللہ کے نیک بندے اور خاص کر سلطان الفقر ہستیاں دوسروں سے مختلف ہوتی ہیں اور ان کے اپنے ربّ سے معاملات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ یہ آپ رضی اللہ عنہٗ کا اعلیٰ ترین مقامِ ولایت ہی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہٗ کی باطنی نگاہ سے قزاقوں کا گروہ تائب ہو گیا اور آپ کے وسیلے سے ولایت کے درجہ تک پہنچا حالانکہ ابھی آپؓ نوجوانی کی عمر میں ہی تھے اور بظاہر مقامِ مرشدی پر فائز نہیں ہوئے تھے۔
آپ رضی اللہ عنہٗ کی جوانی عبادت و ریاضت میں گزری جبکہ اس عمر میں زیادہ تر لوگ دنیا کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے اپنے نفس کا تزکیہ کرنے کے لیے بہت زیادہ ریاضت و مجاہدہ فرمایا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے علمِ قرآن، علمِ تفسیر، علمِ حدیث، علمِ فقہ، علمِ لغت، علمِ شریعت، علمِ طریقت غرض کوئی علم ایسانہیں تھا جس میں آپ نے کاملیت اور عبور حاصل نہ کیا ہو۔
اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کو مختلف ناموں سے یاد فرماتا ہے جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مدثر، مزمل، یٰسین، طٰہٰ وغیرہ کے نام سے پکارا اسی طرح آپ رضی اللہ عنہٗ کو اللہ تعالیٰ نے ’’غوث الاعظم‘‘ کے لقب سے ۔۔۔مزید پڑھیں

سب کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے تھا اور ہوگا۔ (انسانِ کامل۔ سیّد عبدالکریم بن ابراہیم الجیلیؒ )
ایمان مومنین پر اللہ کا احسان ہے اور ایمان کا مرکز و محور آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے نسبت و تعلق ہی حقیقتاً ایمان ہے۔ یہ تعلق اگر مضبوط و مستحکم ہو تو ایمان کامل اور اگر کمزور ہو تو ناقص و نامکمل اور اگر خدانخواستہ یہ تعلق ٹوٹ جائے تو ایمان کلیتاً ختم ہو جاتا ہے۔
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ اس تعلق کو یوں بیان فرماتا ہے:
ترجمہ:پس جو لوگ اس(برگزیدہ رسولؐ) پر ایمان لائیں گے اور ان کی تعظیم و توقیر کریں گے اور ان کی مد د ونصرت کریں گے اور اس نور کی پیروی کریں گے جوان کے ساتھ اتارا گیا ہے وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔(سورۃ الاعراف۔157)
جو ذات باعثِ کائنات ہے اس سے عشق و محبت ،وفاواطاعت کے بغیر ایمان کے مکمل ہونے کا تصور ہی نہیں۔ اگراللہ تعالیٰ نے کائنات کو تخلیق کر کے مخلوقات میں اپنے ربّ ہونے کو ظاہر کیا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وجہ سے۔ اس لئے دین،ایمان،علم، ۔۔۔مزید پڑھیں

ظہورِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پہلے عرب کی سر زمین غبارِ راہ سے کثیف اور جہالت سے گرد آلود تھی۔ کوئی انسانی و معاشرتی تنزلی ایسی نہ تھی جو کہ عرب معاشرے میں موجود نہ تھی اور انسانیت کو شرماتی نہیں تھی۔ سر زمین عرب صرف تپتا ہوا صحرا ہی نہیں تھی بلکہ جہالت اور حیوانگی کا مظہر تھی۔ عرب کی رگوں میں سختی،اڑیل پن، مردانگی کے بے ڈھنگے مظاہرے اور طاقتور کی حکمرانی کمزور و مظلوم کی سسکیوں کی روانی تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ یہ لوگ اس معاشرے کے عکاس تھے جہاں صنفِ نازک کی قدر صرف ایک بچے پیدا کرنے والی ذات تک ہی محدود تھی۔ جہاں لڑکیوں کی بلوغت ان کے لئے خطرے کی علامت اور لڑکی کی پیدائش نامعلوم قبروں میں ایک اور قبر کے اضافے کا موجب ہوتا تھا۔ جہاں خاندان غلاموں، لونڈیوں، زناکاری اور بے تحاشا لڑکوں کے شوق میں ڈوبے رہتے تھے۔ عزت بس اس عورت تک محدود تھی جو صرف لڑکے پیدا کرتی تھی۔ لوگ قبائل میں بٹے ہوئے تھے اور قبائل جاہلانہ رسوم و رواج میں۔ رُسومات ایسی جو پتھر پر لکیر تھیں اور کسی انسانی جذبے یا ضرورت کی پرواہ نہ کرتی تھیں۔ صحرائے عرب کے لوگوں کی زندگی کا انحصار بھیڑ بکریوں، گھوڑوں، اونٹوں اور کھجوروں پر تھا۔ عرب مشرک لاتعداد فرقوں میں بٹے تھے اور لاتعداد خداؤں پر اعتقاد رکھتے ۔۔۔مزید پڑھیں

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
*اَلْفَقْرُ فَخَرِیْ وَالْفَقْرُ مِنِّیْ۔
ترجمہ :فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔
فقر دراصل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقت کا نام ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فخر فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ایک ایسا گنجینہ ہے جس کی طلب ہر مومن و مسلمان کو ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقت تک رسائی کسی کسی کا نصیب ہے ہر کوئی اس حقیقت تک رسائی کا اہل نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ اور آپ کی حقیقت جیسی حقیقت اور کسی کی نہیں، جو راز آپ کی ذاتِ مبارکہ سے ظاہر ہواوہ کسی اور نبی و مرسل سے ظاہر نہیں ہوا۔ تب ہی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اُمتی ہونے کی دعا کی۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ لِیْ مَعَ اللّٰہِ وَقْتٌ لَا یَسْعُنِیْ فِیْہِ مَلَکٌ مُقَرَّبٌ وَلَا نَبِیٌّ مُرْسَلٌ۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے ساتھ میرا ایساوقت بھی ہے جس میں مجھ تک نہ کوئی مقرب فرشتہ پہنچ سکتا ہے اور نہ نبی مرسل۔
مندرجہ بالا حدیث سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقت واضح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مثل اور کوئی نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بے مثل اور بے مثال ذات ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ کا احاطہ کرنا نا ممکنات میں سے ہے اور نہ ہی کوئی آج تک اس کا دعویٰ کر سکا ہے کیونکہ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی بے مثل ذاتِ مبارکہ کے بارے میں اپنی زبانِ مبارک سے خود ہی فرما دیا کہ میں جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہوتا ہوں تو مجھ تک کسی کی بھی رسائی نہیں ہوتی چاہے وہ کوئی فرشتہ ہو یا کوئی نبی و مرسل۔ اس حدیث سے ایک اور بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی وہ ہستی ہیں جو عالمِ ناسوت میں بشری لباس میں بھی اللہ تعالیٰ کے انتہائی قرب میں رہے اور کسی بھی مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اتنا قریب نہیں کیا۔ یہ فضیلت صرف ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم۔۔۔مزید پڑھیں

اللہ تعالیٰ بے انتہا حسین وجمیل ہے وہ چاہتا تھا کہ اس کے حسن کو کوئی دیکھے، تعریف کرے اور اس میں محو ہو کر ہر چیز بھلا دے۔ اس کے لیے ایک ایسا مجسم آئینہ درکار تھا جس میں وہ اپنا حسن ظاہر کر سکے۔یہی چاہت انسان کی تخلیق کا باعث بنی۔ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ پاک کا سب سے کامل آئینہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذاتِ بابرکات بنی۔سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو ؒ نے فرمایا ہے:
* ’’ جان لو کہ جب اللہ واحد نے حجلۂ تنہائی وحدت سے نکل کر کثرت میں ظہور فرمانے کا ارادہ کیا تو اپنے حسن و جمال کے جلوؤں کو صفائی دے کر عشق کا بازار گرم کیا جس سے ہر دو جہان اس کے حسن و جمال پر پروانہ وار جلنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے میم احمدی کا نقاب اوڑھا اور صورتِ احمدی اختیار کی۔‘‘ (رسالہ روحی شریف)
صورتِ احمدی دراصل اللہ تعالیٰ کے نور کی بہترین صورت ہے جس میں کچھ کمی یا خامی نہیں ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ:’’اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق کہ اس میں چراغ ہے۔ چراغ فانوس میں ہے فانوس ایسے ہے کہ ایک موتی جو ستارے کی مانند چمکتا ہے۔ یہ چراغ اس برکت والے پیڑ زیتون کے تیل سے روشن ہوتا ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی۔ قریب ہے کہ اس کا تیل بھڑک اُٹھے۔ اگرچہ اُسے آگ نہ بھی چھوئے۔نور پر نور چھایا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس نور کی طرف اسی کو ہدایت دیتا ہے جو اس کا طالب بنتا ہے۔‘‘ (سورۃ النور۔35 )
درج ذیل حدیث مبارکہ میں بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے:
*  اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ نُوْرِیْ۔
ترجمہ: سب سے پہلے اللہ نے میرے نور کو پیدا فرمایا۔
سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
* جان لے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے روحِ محمد کو اپنے نورِ جمال سے پیدا کیا۔ جیسا کہ فرمان حق تعالیٰ ہے:
’’ میں نے روحِ محمد کو اپنے چہرے کے نور سے پیدا فرمایا۔‘‘ (مقدمہ سرّ الاسرار)
حضرت شاہ سیّد محمد ذوقی ؒ اپنی تصنیف ’’ سرِّ دلبراں‘‘ میں فرماتے ہیں:
* ’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ تعالیٰ کا وہ نور ہیں جو سب سے ۔۔۔مزید پڑھیں

فقر (Faqr) کے لغوی معنی احتیاج کے ہیں۔ عام طور پر اس سے تنگ دستی’ غربت’ مفلسی اور ناداری مراد لی جاتی ہے۔ دینِ اسلام میں ”فقر” سے وہ راہ یا وہ طریق مراد ہے جو بندے اور اللہ کے درمیان سے تمام حجابات کو ہٹا کر بندے کو اللہ کے دیدار اور وصال سے فیض یاب کرتا ہے۔ ”فقر” (Faqr)دراصل دینِ اسلام کی حقیقت ہے۔ جو اولیاء کرام اور ہمارے سلف صالحین کا اللہ تک رسائی کا طریقہ رہا ہے لیکن دورِ جدید کے علمائے کرام اور مغرب زدہ طبقہ نے اس طریق اور علم سے ناواقفیت کی بنا پر عوام الناس کی توجہ اس راہ سے ہٹا کر ظاہریت پرستی کی طرف مبذول کرا دی ہے اور عوام روح اور اللہ کے تعلق کو بھلا کر صرف جسمانی اعمال و عبادات میں الجھ گئے ہیں۔ آج مسلمان بھی اس لفظ ”فقر” اور اس کی حقیقت سے اتنے ہی ناآشنا ہیں جتنے غیر مسلم ۔حالانکہ ہمارے آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فقر (Faqr)کو اپنا فخر فرمایا ہے اور اسے بطور خاص اپنی ذات سے منسوب فرمایا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد پاک ہے:اَلۡفَقۡرُ فَخۡرِیۡ وَالۡفَقۡرُ مِنِّی ترجمہ: فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بے حساب کمالات اور اوصاف سے نوازا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی کسی خوبی پر فخر نہیں فرمایا۔۔۔مزید پڑھیں

دینِ اسلام باطنی طور پر رجوع الی اللہ یعنی ہر طرف سے منہ موڑ کر اللہ کی طرف رجوع کرنے کا دین ہے اور ظاہری طور پر اسی رجوع الی اللہ کا ذریعہ بننے والے اعمال کا مجموعہ ہے۔ رجوع الی اللہ ہی دین کے تمام ظاہری و باطنی اعمال کا بنیادی مقصد ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے اپنے بندوں کی رہنمائی کی خاطر اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے دو ذریعے بنائے یعنی قرآن و سنت۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی چھوڑ دینے، جھٹلانے یا اس کی آدھی ادھوری یا من پسند پیروی کرنے والا دین سے کچھ حاصل نہ کرپائے گا بلکہ دین و دنیا کے تمام معاملات میں صرف الجھاؤ اور ناقابلِ حل مسائل کا شکار رہے گا۔ آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذاتِ مبارکہ قرآن کی عملی تفسیر اور دین کے تمام احکام کا عملی نمونہ ہے۔ ان کا ہر عمل خواہ وہ دین کے ظاہری پہلوؤں کے متعلق ہو یا باطنی، تمام اُمت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہدایت، فلاح اور رجوع الی اللہ کا راستہ دکھاتے ہوئے فرمایا ترجمہ:’’اے ایمان والو! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے اسوۂ حسنہ میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے‘‘ اور فرمایا ترجمہ:’’(اے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)! کہہ دیجےۂ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا‘‘۔۔۔مزید پڑھیں

مادی جسم کے اندر موجود باطنی انسان ایک جیتا جاگتا وجود ہے جو انسان کی توجہ کا طالب ہے۔ جس طرح مادی جسم کی تندرستی کے لیے صحیح غذا ضروری ہے اسی طرح باطنی وجود کی بھی غذا ہے جس سے وہ سکون محسوس کرتا ہے’ تندرست و توانا ہوتا اور قوت حاصل کرتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ  ط (الرعد۔28)  ترجمہ: بے شک ”ذکر اللہ” سے ہی قلوب کو اطمینان اور سکون حاصل ہوتا ہے۔یعنی اللہ کے اسم کے ذکر سے انسانی قلب یا روح کو سکون حاصل ہوتا ہے کیونکہ یہی اس کی غذا اور قوت کا باعث ہے۔ جو انسان اس ذکر سے روگردانی کرتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں

قرآنِ مجید میں بھی وسیلہ تلاش کرنے کا حکم ہے۔یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَوَجَاہِدُوۡافِیۡ سَبِیۡلِہٖ لَعَلَّکُمۡ   تُفۡلِحُوۡنَ   ترجمہ: اے ایمان والو !تقویٰ اختیار کرواور اللہ کی طرف وسیلہ پکڑو۔اس آیت مبارکہ میں ایمان لانے والوں کو دو باتوں کا حکم ہوا ہے اول تقویٰ اختیار کرنا دوم اللہ کی پہچان کے لیے وسیلہ پکڑنا، ڈھونڈنا یا تلاش کرنا۔و سیلہ کالغو ی معنی ”واضح راستہ اور ایسا ذریعہ ہے جو منزلِ مقصود تک پہنچادے اور اس حد تک معاون ومددگار ہو کہ حاجت مند کی حاجت باقی نہ رہے۔ اور اس وسیلہ کی بدولت۔۔۔مزید پڑھیں

جس طرح اسمِ” اللہ ”اللہ کا ذاتی نام ہے اور اس کی تمام صفات اور دیگر صفاتی ناموں کا احاطہ کرتا ہے اسی طرح اسم ” محمد”( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم )حضور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذاتی نام ہے اور اُن کی تمام صفات اور ذات کی تمام خوبیوں کا جامع ہے اور ان کی ذات سے سب سے زیادہ وابستہ ہے اسی لیے تصورِ اسمِ محمد مجلسِ محمدی کی حضوری کے لیے سب سے پُر اثر اور طاقتور ذریعہ ہے۔ جو باطن میں دیدارِ الٰہی سے پہلے اہم مقام ہے۔ جسے مجلسِ محمدی ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم )کی حضوری حاصل ہوگئی اسے کامل دین حاصل ہوگیا۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تصانیف میں اسمِ  اللہ ذات کے ساتھ ساتھ ۔۔۔مزید پڑھیں

فقر میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا سلسلہ سروری قادری ہے۔سلسلہ سروری قادری کا ایک سِرّ ہے اور یہ سِرّ لقائے الٰہی اور مجلس ِ محمدی کی حضوری ہے جوپیرانِ پیر دستگیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗنے اپنے فرزند سیّد نا عبدالرزاق رحمتہ اللہ علیہ کو اور انہوں نے اپنے پوتے سیّدنا عبد الجبار ابن ابو صالح نصر رحمتہ اللہ علیہ کو منتقل فرمایا ۔یہ سِرِّ لقائے الٰہی اور مجلس ِ محمدی کی حضوری والا کامل سلسلہ قادری ہے۔ ابتدا میں اس کو جباری گروہ کے نام سے پکارا گیا ۔محمد حسین دہلوی اپنی کتاب’’ تذکرہ الفقرا‘‘جس میں انہوں نے مختلف سلاسل کے فقرا سے ملاقاتوں کا تذکرہ فرمایا ہے، میں تحریر فرماتے ہیں کہ دورانِ سیاحت اُن کی ’’جباری گروہ کے کسی ۔۔.مزید پڑھیں

اسمِ  اللہ ذات کے ذکر کی چار منازل ہیں اَللّٰہُ لِلّٰہُ  لَہُ  ھُو اسمِ اللہ ذات اپنے مسمّٰی ہی کی طرح یکتا ‘ بے مثل اوراپنی حیرت انگیز معنویت وکمال کی وجہ سے ایک منفرد اسم ہے۔اس اسم کی لفظی خصوصیت یہ ہے کہ اگر اس کے حروف کو بتدریج علیحدہ کردیا جائے تو پھر بھی اس کے معنی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی اورہر صورت میں اسمِ  اللہ ذات ہی رہتا ہے ۔ اسم اَللّٰہُکے شروع سے پہلا حرف اہٹا دیں تو لِلّٰہ رہ جاتا ہے اور اس کے معنی ہیں” اللہ کے لئے” اور یہ بھی اسمِ ذات ہے قرآن مجید میں ہے:لِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَافِی الْاَرْضِترجمہ: ”ﷲ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے”۔اور اگر اس اسم پاک کا پہلا ل  ہٹا دیں تولَہُرہ جاتا ہے جس کے معنی ہیں”اس کے لئے” اور یہ بھی اسمِ ذات ہے ۔۔.مزید پڑھیں

انفاق کے لغوی معنی ’’خرچ کرنا‘‘ اور فی سبیل  اللہ کے معانی ہیں ’’ اللہ تعالیٰ کی راہ میں‘‘۔ اصطلاحِ شریعت میں اللہ کی رضا کے لیے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کو انفاق فی سبیل اللہ کہا جاتا ہے۔
شریعت میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے یعنی انفاق فی سبیل اللہ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک انفاقِ واجبہ اور دوسری انفاقِ نافلہ۔ ان میں ایک قسم فرض اور دوسری نفلی صدقہ و خیرات کے زمرے میں آتی ہے۔۔۔مزید پڑھیں

موجودہ دور نفس پرستی کا دور ہے۔ اکثریت اللہ تعالیٰ کی بجائے نفس کے بتوں(نفسانی خواہشات کے بت) کی پرستش میں مصروف ہے۔ نفس اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان حجاب ہے اگر یہ حجاب درمیان سے ہٹ جائے تو اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان کوئی پردہ نہیں رہتا۔ یہ حالت ’’قلبِ سلیم‘‘ کی منزل یعنی نفسِ مطمئنہ پر پہنچ کر حاصل ہوتی ہے ۔ریاکاری، نفاق، حُبِّ دنیا ، حُبُّ الشَہوات، بغض ، کینہ، حسد، غصہ، شہوتِ معدہ،۔۔۔مزید پڑھیں