Tehreek-Dawat e Faqr Blog | تحریک دعوتِ فقر بلاگ

اس ویب سائٹ پر نئے بلاگز ہر ماہ کی چھ (6) تاریخ تک  اپ لوڈ کر دئیے جاتے ہیں 

حضرت مسور بن مخرمہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: ’’فاطمہؓ میرے جسم کا ٹکڑا ہے‘ پس جس نے اسے ناراض کیا اُس نے مجھے ناراض کیا۔ ‘‘(متفق علیہ)
حضرت مسور بن مخرمہؓ روایت فرماتے ہیں ’’ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا: بے شک فاطمہؓ میرے جگر کا ٹکڑا ہے اور مجھے ہرگز یہ پسند نہیں کہ کوئی شخص اسے تکلیف پہنچائے اللہ رب العزت کی قسم! کسی شخص کے گھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور اللہ تعالیٰ کے دشمن کی بیٹیاں جمع نہیں ہو سکتیں۔‘‘ (متفق علیہ)۔۔۔مزید پڑھیں

روزہ اسلام کا تیسرا بنیادی رکن ہے ۔ ہجرت کے دوسرے سال 10 شعبان کو روزے فرض کر دیئے گئے۔ رمضان رمض سے مشتق ہے ۔ رمض کے معنی جلانا ہے ۔ لُغت میں رمض کے معنی صیام کے ہیں اور صیام سے مراد رک جانا یا ترک کر دینا ہے ۔شریعت میں اس سے مراد اللہ کی رضا مندی اور خوشنودی کے لیے نفس کی خواہشات کو چھوڑ دینا ہے۔ یہ وہ با برکت مہینہ ہے جس میں ہر نیکی کا ثواب ستر(70) گنا بڑھ جاتا ہے ۔
نیت: کسی بھی کام کو شروع کرنے سے پہلے اُس کی نیت پر غور کیا جاتا ہے دیگر عبادات کی طرح روزے کی نیت کرنا بھی ضروری ہے ۔۔۔مزید پڑھیں

ارشاد ِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ التَّوَّابِیْنَ (البقرہ۔222)
 ترجمہ: بے شک اللہ توبہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے۔

توبہ کی تعریف:خطائوں اور معصیت (گناہ) سے جس توبہ کا ہم سے بار بار مطالبہ کیاگیا ہے اس کی حقیقت سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے۔ اگر توبہ کی حقیقت سے واقفیت نہ ہو تو صرف زبان سے توبہ  توبہ کہنا کافی نہیں ہے۔۔۔۔مزید پڑھیں

فقر کیا ہے؟ میرے مرشد کریم شانِ فقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں
 ’’فقر کے لغوی معنی تو تنگدستی اور احتیاج کے ہیں لیکن عارفین کے نزدیک یہ وہ منزلِ حیات ہے جس کے متعلق سرکارِ دو عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا:
ترجمہ’’ فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے‘‘۔
٭  فقر ایک خاص باطنی مرتبہ اور کمال ہے۔ اس کے مقابلہ میں نہ کوئی مرتبہ ہے نہ کمال۔۔۔مزید پڑھیں

انفاق کے لغوی معنی ’’خرچ کرنا‘‘ اور فی سبیل  اللہ کے معانی ہیں ’’ اللہ تعالیٰ کی راہ میں‘‘۔ اصطلاحِ شریعت میں اللہ کی رضا کے لیے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کو انفاق فی سبیل اللہ کہا جاتا ہے۔
شریعت میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے یعنی انفاق فی سبیل اللہ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک انفاقِ واجبہ اور دوسری انفاقِ نافلہ۔ ان میں ایک قسم فرض اور دوسری نفلی صدقہ و خیرات کے زمرے میں آتی ہے۔انفاقِ واجبہ: یہ فرض ہے اور اصطلاحِ شریعت میں اسے ’’زکوٰۃ‘‘ کہا جاتا ہے ۔۔۔مزید پڑھیں

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ کے سلسلہ سروری قادری کے موجودہ امام اور تحریک دعوتِ فقر کے بانی و سر پر ست ِ اعلیٰ ہیں ۔ آپ مدظلہ االاقدس اسمِ اعظم اسمِ اللہ ذات کے فیوض و برکات کو عام کرنے کے لیے دن رات مصروفِ عمل ہیں۔ملک بھر میں آپ مدظلہ الاقدس کے سینکڑوں مریدین اور عقیدتمند اپنے اپنے علاقہ میں تعلیماتِ فقر کو عام کرنے کے اس مشن میں بھرپور حصہ لیتے ہیں جن کی کچھ سرگرمیاں آپ کی خدمت میں پیش کی جاتی ہیں ۔۔۔مزید پڑھیں

معراج کے لفظی معنی عروج یا چڑھائی کے ہیں۔ یہ وہ سفر مبارک ہے جوانسان کے جسمانی اور باطنی عروج کی انتہا ہے۔ یہ کمال رسالت اور تجلیات کی وہ روداد ہے جو اس سے پہلے نہ کبھی لکھی گئی اور نہ ہی دوبارہ لکھی جائے گی۔ یہ خالق اور مخلوق کی وہ ملاقات ہے جس میں دونوں طرف شوقِ وصل تھا اور جس میں خالق نے اپنی ہر تجلی کو انسانی آنکھ کی بینائی کے قابل کر دیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام کوہِ طور پر خدا پاک کی تجلی کی تاب نہ لاسکے تھے لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی مبارک آنکھوں سے خدائے بزرگ و برتر کا دیدار کیا۔۔۔۔مزید پڑھیں

سرورِ کونین ‘محبوبِ خدا‘ وجۂ کائنات حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حیاتِ طیبہ کی ہر ہر ادا دلربا اور ہر ہر بات بے مثل و لاثانی ہے۔ اللہ ربّ العزت نے چالیس سال کی عمر میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو شرفِ نبوت بخشا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا بچپن اور جوانی بھی اُسی طرح طیب و طاہر ہیں جس طرح بعثت کے بعد کی زندگی۔عام بچوں کے برعکس حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طبیعت دنیاوی کھیل تماشوں کی طرف بالکل مائل نہ ہوتی تھی بلکہ سنجیدگی، متانت، صبر و تحمل، صداقت، صاف گوئی،تفکر اورتدبر بچپن ہی سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی شخصیت میں نمایاں تھے۔۔۔مزید پڑھیں

خصائص سے مراد وہ اوصاف و کمالات اور امورو معاملات ہیں جو کسی کی ذات کے ساتھ خاص ہوں اور کسی دوسرے میں نہ پائے جائیں۔ خالقِ کائنات نے انسان کی رشدو ہدایت کے لیے اپنے برگزیدہ بندوں کو پیغمبر بنا کر دنیا میں بھیجا تو اُنہیں دیگر انسانوں سے متمیز کرنے کے لیے اَن گنت اوصاف و کمالات سے متصف فرمایا، یہ اوصاف و کمالات اُن کے خصائص کہلاتے ہیں ۔ جب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم مبعوث ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو ان تمام خصائص و امتیازات کا جامع بنایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو بے پایاں اعزازات، القابات، معجزات اور اختیارات عطا فرمائے گئے جو صرف آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا خاصہ ہیں ۔۔۔مزید پڑھیں

یہ ایک مستند حقیقت ہے کہ جب انسان بیمار ہوتا ہے تو ڈاکٹر سے رجوع کرتا ہے اور اس کی ہدایات کے مطابق عمل کرتا ہے، جب اسے علم کی طلب ہوتی ہے تو معلم سے مستفید ہوتا ہے اور جب اسے جسم کی نشوونما کی فکر ہوتی ہے تو خوراک کے حصول کی خاطر حصولِ رزق کے ذرائع کی طرف رجوع کرتا ہے۔ الغرض انسان اپنی ہر ضرورت کی تسکین کے لیے ان کے ذرائع کی طرف رجوع کرتا ہے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ آپ بیمار ہوئے ہوں اور ڈاکٹر سے علاج کروائے بغیر خود ہی گھر بیٹھے تندرست ہو جائیں یا گھر بیٹھے ہی معلم کے بغیر تمام علوم حاصل کر لیے ہوں۔ پس دنیاوی زندگی کے معاملات ہوں یا اُخروی زندگی کے معاملات‘ ان کو خوش اسلوبی سے سر انجام دینے کے لیے رہبر و رہنما کی ضرورت ہوتی ہے۔۔۔مزید پڑھیں

’’ہم نے اس قرآن کو رحمت اور شفاعت بنا کر بھیجا ہے یہ قرآن روح کی تازگی اور اسے شفادینے کے لیے آیا ہے ۔ یہ قرآن جسمانی طور پر بھی شفا دیتا ہے ‘‘۔
قرآنِ پاک اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے محبوب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر نازل کیا جس طرح اللہ کو اپنے محبوب سے بے حد محبت اور عقیدت ہے اسی طرح قرآن سے بھی ہے۔ حتیٰ کہ اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے،قرآنِ کریم میں ارشاد ہوتا ہے کہ 
ترجمہ:’’ یہ کتاب ہم نے نازل کی اور ہم خود اس کے نگہبان ہیں۔‘‘ (الحجر۔9)
ذرا غور کریں کہ جس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ خود لے وہ یقیناًعام چیز نہیں ہو گی۔۔۔۔مزید پڑھیں

قوموں کے لیے موت ہے مرکز سے جدائی 
ہو صاحبِ مرکز تو خودی کیا ہے، خدائی! 

مرکز سے مراد کسی شے کا اہم ترین اور بنیادی نکتہ ہے جہاں اس شے کی تمام تر قوت مرکوز ہو۔ راہِ فقر میں بھی مرکز کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ فقر کا مرکز وہ ہوتا ہے جہاں سے دنیا بھر کے طالبانِ مولیٰ کے متعلق اہم فیصلے صادر ہوتے ہیں، جہاں اللہ تعالیٰ کی جماعت اور اس کی راہ میں درپیش ظاہری اور باطنی مسائل کو حل کیا جاتا ہے، اللہ تعالیٰ کی جماعت کے فروغ کے لیے مختلف نوعیت کے احکامات نافذ کیے جاتے ہیں اور اسی نوع کے دیگر فیصلے کیے جاتے ہیں۔ نظامِ تکوین کا مرکز بھی یہی ہوتا ہے۔ جہاں صاحبِ فقر موجود ہوتا ہے وہی جگہ فقر کا مرکز ہوتی ہے۔ آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم جب مدینہ منورہ میں ظاہری طور پر موجود تھے تو صاحبِ فقر ہونے کے باعث مدینہ منورہ فقر کا مرکز رہا۔ جنگوں کی تیاریاں، دینی و دنیاوی معاملات کا حل، طالبانِ مولیٰ کا تزکیۂ نفس اور ہر کام کا فیصلہ ادھر سے ہی ہوتا۔ وہیں ظاہری اور باطنی مجلسِ محمدیؐ لگتی۔ لہٰذا ہر کام کا مرکز وہی مقام تھا جہاں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ظاہری طور پر موجود تھے۔ مرکز سے دوری اور علیحدگی انتشار و فتنہ پیدا کرتی ہے۔ مرکز ہمیشہ ایک ہی ذات ہوتی ہے اور اُس ذات مبارکہ کے باعث وہ مقام بھی ایک ہی ہوتا ہے۔ مسجد ضرار کا واقعہ اس بات کا ثبوت ہے۔ وہ بھی ایک مسجد تھی جہاں اذان ہوتی تھی اور نماز بھی پڑھی جاتی تھی مگر یہ مسلمانوں کو ان کے مرکز یعنی حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے جدا کرنے کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔ یہ منافقین کی سازش تھی۔ جہاں حاملِ فقر کی ذات ہی نہیں وہ مرکز بھی نہیں۔ قرآنِ پاک میں سورۃ توبہ آیات 107تا109میں منافقین کی اس سازش کو بیان کیاگیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس مسجد کی تعمیر کو ناپسند فرمایا۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اس مسجد کو گِرا کر آگ لگا نے کا حکم فرمایا۔
فیضِ فقر کا اصل منبع تو حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی ہیں کیونکہ فقر آپ کا ورثہ ہے۔ آج بھی طالبانِ مولیٰ سے متعلق تمام فیصلے مجلسِ محمدی میں ہی کیے جاتے ہیں۔ فقر کا مرکز بھی مجلسِ محمدیؐ کے فیصلے کے مطابق تبدیل ہوتا رہتا ہے اور اسی ہستی کو مرکزِ فقر بنایا جاتا ہے جس میں حقیقتِ محمدیہ کامل ترین صورت میں ظاہر ہو، جس کی بدولت اس نے راہِ فقر میں ۔۔۔مزید پڑھیں

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھوؒ  فرماتے ہیں’’فقیری سیّد یا قریش ہونے پر موقف نہیں یہ عرفان سے حاصل ہوتی ہے‘‘۔ (نورالہدیٰ خورد )
’’معرفتِ الٰہی (راہِ فقر) کا مرتبہ اللہ تعالیٰ کا فیض و فضل اور بخشش و عطا ہے وہ جسے چاہتا ہے بخش دیتا ہے ۔اُس کا تعلق حسب، نسب اور شہرت سے نہیں بلکہ دردِ دل سے ہے ۔اس کا تعلق ہمت اور صدق سے ہے نہ کہ نسبتِ سیّدی و قریشی سے۔ ‘‘ ( نور الہدیٰ کلاں) 
نسب کے لحاظ سے تمام بنی نوع انسان ایک باپ حضرت آدم علیہ السلام اور ایک ماں حضرت حوا سلام اللہ علیہا کی اولاد ہیں۔ ایک کو دوسرے پر کسی طرح کی فوقیت اور ترجیح حاصل نہیں ہے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے حجتہ الوداع کے موقع پر فرمایا: 
’’ اے لوگو! آگاہ رہو اور غور سے سنو، تمہارا ربّ ایک ہے اور غور سے سنو تمہارا باپ ایک ہے اور کان کھول کرسن لو کسی عربی کو عجمی پر اور گورے کو کالے پر (محض نسل،نسب، قوم، وطن، علاقہ کی وجہ سے) کوئی فضیلت نہیں ہے اگر کسی کو فضیلت حاصل ہے تو وہ صاحبِ تقویٰ (صاحبِ فقر) کو ہے ‘‘۔
بابِ فقر امیرالمومنین حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں:
’’انسان بااعتبار پیکرِ عنصری ایک دوسرے کے ہمسر ہیں ان کے باپ آدم ؑ اور ماں حوا ؑ ہیں ۔‘‘ 
نسب کے لحاظ سے تمام انسان برابر ہیں کسی کو کسی پر کوئی برتری حاصل نہیں، جو فوقیت یا بڑائی کسی کو حاصل ہے وہ حسب کے لحاظ سے ہے نسب کے لحاظ سے نہیں۔ اور اگر حقیقت سمجھنی ہو تو جان لو کہ انسان کی قدر جوہر سے ہے نا کہ نسب سے۔ ہاں اگر جوہر بھی ہو اور حسب بھی تو اعلیٰ نسب سونے پر سہاگہ کا کام دیتا ہے۔ 
ارشادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہے :
مَنْ سَلَکَ عَلٰی طَرِیْقِیْ فَھُوَآلِیْ۔ 
ترجمہ : جو میرے راستہ (فقر) پر چلاوہی میری آل ہے ۔ 
سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب ا لرحمن مدظلہ الا قدس کا حسب ’’فقر ‘‘ہے جو آقا پاک علیہ الصلوٰۃو السلام کا فخر اور نایاب ورثہ ہے، کا ئنات کی بہترین نعمت اور بزرگی، شرافت و نجابت اور حسب کا اعلیٰ ترین معیار ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کو نعمتِ فقر و ولایت نسبی وراثت۔۔۔مزید پڑھیں

حضرت سلطان باھوؒ  رسالہ روحی شریف میں فرماتے ہیں ’’ ہفت ارواح فقرا باصفا فنافی اللہ بقاباللہ محوِ خیال ذات ہمہ مغزبے پوست پیش از آفرینش آدم علیہ السلام ہفتادہزار سال غرق بحرِ جمال بر شجرمرآۃالیقین پیدا شدند‘‘۔

ترجمہ : سات ارواحِ فقرا باصفا فنا فی اللہ بقا باللہ تصورِ ذات میں محو تمام مغز بے پوست‘ حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ستر ہزار سال پہلے اللہ کے جمال کے سمندر میں غرق آئینۂ یقین کے شجر پر رونما ہوئیں۔
یہ سات ارواح روزِ الست سے فنافی اللہ بقا باللہ کے مقام پر ہیں۔ اور ہر دور کے انسانِ کامل کی صورت میں دنیامیں مو جود ہیں۔ اللہ تبارک و تعالیٰ سے کامل وصال کی وجہ سے اللہ پاک کی تمام صفات ان ارواح میں مکمل طور پر پہلے سے ہی موجود ہوتی ہیں۔ حضرت سلطان باھوؒ  کے قول کے مطابق ’’ نہ وہ خداہیں اور نہ خدا سے جدا ‘‘ اور ’’فقر عین ذات پاک ہے ‘‘۔ انسان کامل بھی فقر میں کامل اکمل ہونے کی بنا پر ذات و صفاتِ الٰہیہ کی مکمل اور جامع تصویر ہوتا ہے۔ صفاتِ الٰہیہ میں سے ایک صفت تمام کائنات پر تصرف بھی ہے۔ تصرف کے معنی کسی چیز پر قبضہ یا اختیار ہے۔ لہٰذا انسانِ کامل اکمل کے تصرف میں دنیا جہان کی تمام اشیا ہیں۔ دورِ حاضر کے انسانِ کامل فقیرِ کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمدنجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اپنے تصرفات کو استعمال کرتے ہوئے راہِ فقر میں ایسے ایسے روحانی و باطنی کمالات سرانجام دیئے ہیں جو کسی عام انسان کے وہم و فہم میں بھی نہیں۔۔۔مزید پڑھیں

ولی  کامل اپنے وصال سے قبل اپنے خاص منتخب طالبوں کو خلافت عطا فرماتا ہے۔ جن میں سے صرف ایک خلیفۂ اکبر جبکہ باقی خلیفہ اصغر ہوتے ہیں۔ خلیفۂ اکبر ہی اس ولی کامل، فقیرِ کامل کا حقیقی روحانی وارث اور سلسلہ کا سربراہ ہوتا ہے۔ فقیر کامل خود اپنے روحانی وارث کی تربیت کر کے اس کی ذمہ داری لگاتا ہے کہ وہ اس ( فقیرِ کامل) کے بعد لوگوں کو راہِ حق کی طرف بلائے۔

یہ وارث کامل فقیر ہوتا ہے کیونکہ وہ اپنے عمل حتیٰ کہ شکل و صورت میں بھی اپنے مرشد کا عین بعین ہوتا ہے اور اپنے مرشد کی طرح فقر کا منبع ہوتا ہے۔ فقر کے متعلق حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا ’’فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے‘‘۔ فقیر اللہ سے اللہ کے سوا کچھ نہیں مانگتا۔ اسے صرف اللہ کے دیدار، قرب اور خوشنودی کی طلب ہوتی ہے اور اس مقصد کے لیے اس کی توجہ صرف اور صرف اللہ کی طرف ہوتی ہے ۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا کے دلدل میں نہیں پھنستا اور اپنے پیرو کاروں کو بھی یہی درس دیتا ہے ۔ 

چونکہ فقیر کامل اپنے مرشد کا عین بعین ہوتا ہے اس لیے اس کی خانقاہ بھی اولیا کرام کی خانقاہ کا عکس ہوتی ہے۔ خانقاہ میں رہنے والے ہر انسان کی تربیت اسلام کی تعلیمات کے مطابق کی جاتی ہے ۔ طالبانِ مولیٰ کو سکھایا جاتا ہے کہ اللہ کا قرب و دیدار کیسے حاصل کیا جاسکتا ہے اور یہ تو طالب پر منحصر ہے کہ وہ مرشد کی صحبت سے کتنا فیض حاصل کرتا ہے ۔۔۔مزید پڑھیں

کُنْتُ کَنْزًا مَخْفِیًا فَاَحْبَبْتُ اَنْ اُعْرَفَ فَخَلَقْتُ الْخَلْق ترجمہ:میں ایک چھپا ہوا خزانہ تھا میں نے چاہا کہ میں پہچانا جاؤں اس لیے میں نے مخلوق کو پیدا کیا۔ 

اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنی پہچان اور معرفت کے لیے پیدا فرمایا ہے۔ پھر ایسی کیا وجہ ہے کہ انسان اپنی پیدائش کے مقصد کو یکسر بھول گیا ہے ؟ اللہ کی پہچان اور معرفت کا راستہ کوئی دشوار گزار پہاڑ پر چڑھنے کا راستہ نہیں ہے اور نہ ہی اللہ اور بندے کے درمیان کو ئی ایسا پردہ حائل ہے کہ جس کے باعث بندہ ربّ کا دیدار حاصل نہیں کر سکتااور نہ ہی اسے دیدار کے لیے کوئی میلوں مسافت طے کرنی پڑتی ہے۔اللہ اور بندے کے درمیان تو پیاز کی جِھلی سے بھی زیادہ باریک ایک حجاب حائل ہے جو انسان کو دیدارِ الٰہی سے بے بہرہ کیے ہوئے ہے اور اگر انسان عمر بھرکوشش نہ کرے تو وہ دیدارِ الٰہی کی ایسی عظیم ترین نعمت سے آخرت میں بھی محروم ہی رہے گا اور پھر انسان کے پاس سوائے پچھتاوے کے کچھ نہیں بچے گا، وہ حجاب ہے انسان کا ’’نفس‘‘۔۔۔مزید پڑھیں

تمام تعریفیں اللہ کے لیے ہیں جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، تمام مخلوق کا خالق اور روزی دینے والا ہے۔ لم یزل اور لا یزال ہے۔ دونوں جہانوں میں ھُو کے سوا کچھ نہیں اور نہ ہی اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق ہے۔ لاکھوں کروڑوں درودوسلام ہو سرورِ کائنات، باعثِ وجودِ کائنات، آقاو مولیٰ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مطہرہ پر، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آل پاکؓ پر اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین پراور آپ ؐ کے محبوبین پر جن کی پیروی ہر مسلمان پر فرض ہے۔
کائنات کی ہر شے اللہ تعالیٰ کی صفات کی مظہر ہے لیکن انسان اشرف المخلوقات اس لیے کہلایا کہ ربِّ کائنات کی لامحدود ذات اپنی تمام تر تجلیات کے ساتھ انسان کے اندر موجود ہے۔ اللہ پاک نے وحدت سے نکل کر کثرت میں ظہور فرمایا تو سب سے پہلے اپنی ذات سے نورِ محمدی کو ظاہر فرمایا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے نور سے تمام ارواح کوپیدا کیا۔ ان ارواح نے ازل میں اللہ کا دیدار کیا اور اسے اپنا معبود تسلیم کیا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے   انہیں بشری لباس پہنا کر عالمِ خلق کی امتحان گاہ میں بھیجا  گویا انسان کا ظاہر ایک عالم ہے۔۔۔مزید پڑھیں

اُردو لغت میں غیبت کے معنی ہیں کسی شخص یا اشخاص کی غیر موجودگی میں اس کی بدگوئی کرنا یا عیوب کا بیان یا پیٹھ پیچھے بُرائی کرنا۔
علم الاخلاق کی رو سے غیبت کی تعریف یہ ہے کہ اپنے دینی بھائی کی عدم موجودگی میں اس کی برائی کی جائے اگرچہ وہ نقص اس میں ہو یا اس کے بدن میں ہو، اس کی صفات، افعال اور اقوال میں وہ بات پائی جائے یا کوئی بھی چیز جو اس سے متعلق ہو مثلاً گھر، لباس وغیرہ۔

غیبت کی اقسامغیبت کی چند اقسام ہیں:

بلاواسطہ غیبت: بلاواسطہ لکھنا، کہنا، ہاتھ یا پاؤں کے اشارے سے غیبت کرنا، کسی کو حقیر جاننا، کسی نقص کی وجہ سے اشاروں کنایوں میں بُرا سمجھنا یا کہنا اس کا قد چھوٹا ہے وغیرہ کہنا بھی غیبت ہے۔ 

بالواسطہ غیبت:کسی کی عدم موجودگی میں اس کی کسی بات کا جھوٹا مطلب بیان کیا جائے اور یہ ایسا گناہ ہے جسے تہمت کہا جاتا ہے۔

غیبت اور جھوٹ کا امتزاج:دوسروں کی خوبی اور کمال کو بیان کرنا غیبت نہیں اور یہ کہ یہ بات میں اس کے سامنے بھی کہوں گا‘ غیبت کی حالت کو تبدیل نہیں کرتا بلکہ یہ غیبت ہی شمار ہوگا۔ کسی کی غیر موجودگی میں اس کی برائی کرنا گناہِ کبیرہ ہے اور قرآنِ مجید میں اس گناہ کو مردہ بھائی کے گوشت کھانے کے برابر قرار دیا گیا ہے اور روایات میں اس برائی کا گناہ زنا کرنے سے بھی زیادہ شدید کہا گیا ہے ۔۔۔مزید پڑھیں

صحبت کا انسان کی شخصیت پر بہت گہرا اثر ہوتا ہے۔ انسان کی فطرت ہے کہ وہ جس بھی ماحول میں رہتا ہے وہاں کے طور طریقے ‘ وہاں کے لوگوں کا رہن سہن حتیٰ کہ بات چیت کے انداز کو اپنا لیتا ہے۔ انسان اپنی صحبت سے پہچانا جاتا ہے۔ اگر انسان اچھے اوصاف کا مالک ہو گا تو اس کا مطلب ہے کہ ضرور اس کی صحبت اچھی ہو گی۔ وہ اچھے لوگوں میں اُٹھتا بیٹھتا ہو گا ۔ اسی طرح اگر ایک انسان بری عادات کا مالک ہو گا تو اس کا مطلب ہو گا کہ وہ برے لو گوں کی صحبت میں اُٹھتا بیٹھتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی بُری عادات سے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتا ہے تو اسے چاہیے کہ وہ اچھے لوگو ں کی صحبت اختیار کرے تاکہ اچھے اوصاف اپنائے۔ بُرے اوصاف سے مراد صرف یہ نہیں کہ بندہ شراب نوشی، جوا، زنا وغیرہ میں مبتلا ہو بلکہ اس سے مراد یہ بھی ہے کہ بندہ دوسروں سے کینہ و بغض رکھے، جھوٹ و غیبت سے نہ بچے، دولت کی ہوس، جھو ٹی شان و شوکت، دکھاوا اور ریاکاری میں مبتلا ہو۔ اسی طرح اچھے اوصاف صرف شریعت تک محدود نہیں بلکہ یہ طریقت اور شریعت کا مجموعہ ہیں۔ یعنی بندہ نہ صرف ظاہر ی شریعت کا پابند ہو بلکہ وہ با طنی طور پر بھی اچھے اوصاف کا ما لک ہو۔ اس کا باطن کینہ و بغض، حسد و غرور، چغلی و جھوٹ، لالچ و حرص جیسی قبیح خصلتوں سے پاک ہو۔ ایسے ہی شخص کا وجود نورانیت کا مجموعہ ہو تا ہے ۔ 

صحابہ اکرامؓ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صحبت میں زیادہ وقت گزارتے تھے جس کی وجہ سے وہ نہ صرف نماز و روزہ کے پا بند تھے بلکہ وہ ان عبادات کے روحانی مقاصد کو بھی بہت اچھے طریقے سے سمجھتے تھےحضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی صحبت نے ان کی شخصیت پر اس قدر گہرا اثر ڈالا کہ وہ سب آسمان پر ستاروں کی مانند چمکے۔ پھر صحابہؓ کی صحبت سے تابعین اور تابعین کی صحبت سے۔۔۔مزید پڑھیں

دینِ اسلام اللہ تک پہنچنے کا ایک زینہ ہے جس کے مختلف درجات ہیں۔ شریعت اس کا ابتدائی درجہ ہے،طریقت، حقیقت اور معرفت درمیانی درجے ہیں اور فقر (وحدت) اس کی انتہا ہے اور اس کی بنیاد عشق ہے۔ اگر بنیاد مضبوط نہیں ہوگی تو عمارت بھی پائیدار نہیں ہوگی اور اگر کوئی درجہ کم ہوگا تو بھی منزل تک پہنچنا مشکل اور بعض اوقات ناممکن ہوجاتا ہے۔

حضرت خواجہ بندہ نواز رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’ عشقِ حقیقی کے پانچ درجے بیان کیے ۔۔۔مزید پڑھیں

تقویٰ

چار حروف پر مشتمل یہ لفظ (تقویٰ) مقصدِ حیات اور توشۂ آخرت ہے۔ تقویٰ دینِ کامل کی اساس اور بزرگانِ دین کا اثاثہ ہے ۔ تقویٰ اُمتِ مسلمہ پر ربّ کا احسان ہے، اس کی رضاہے ، درجۂ خاص ہے۔ تقویٰ کے بغیر مومن ادھورا ہے کیونکہ تقویٰ روح کا سکون اور ربّ کے دیدار کا ذریعہ اور خدا کے قرب و معرفت کی کنجی ہے۔ اگر تقویٰ کے لفظی معنی کو دیکھا جائے تو لفظ ’’تقویٰ‘‘ کے معنی ’’زرہ‘‘ کے ہیں جو ضرر سے محفوط رکھتی ہے۔ جبکہ شریعت میں اس کے معنی ہر اس عمل سے گریزکرنا ہے جو اللہ تبارک و تعا لیٰ کے غیظ و غضب ۔۔۔مزید پڑھیں

تمام مخلوقات کے خالق و مالک ربّ العالمین جل جلالہٗ کی بڑائی بیان کرنے کے بعد درود حضور پُر نور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر جن کی خاطر اللہ جلّ شانہٗ نے یہ ساری بزم سجائی اور سلام ہو آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آل پر آپ کے اصحابؓ پر اور امہات المومنینؓ پر جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر ایمان لا کر اور اطاعت اختیار فرماکر شمأ رسالت کے پروانوں کا کردار ادا کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ساتھ دعوتِ توحید و رسالت میں معاون رہے۔ دنیا کو وجود میں لانے کے بعد مخلوق کی ہدایت ضروری تھی اس لیے اللہ تعا لیٰ نے اپنے پاکیزہ اور مقبول بندے انبیا مبعوث فرمائے جنہوں نے اللہ ربّ العزت کی تعلیم و ہدایت ۔۔۔مزید پڑھیں

انسان کو زندگی میں بیشتر ایسے امور پیش آتے ہیں جن میں وہ تذبذب کا شکار ہو جاتا ہے۔ کرنے اور نہ کرنے دونوں پہلوؤں پر اس کی نظر ہوتی ہے۔ وہ سرِ دست یہ فیصلہ نہیں کر سکتا کہ موجودہ حالات میں اسے کیا کرنا چاہیے؟ایسی صورت حال میں شریعت نے ہدایت دی ہے کہ اسے تمام مواقع پر از خود فیصلہ کرنے اور اپنی عقل و دانش پر اعتبار کرنے کی بجائے متعلقہ کام کے ماہرین فن ، اربابِ نظر اور ہمدرد افراد سے رائے معلوم کر لی جائے۔ پھر باہمی غوروفکر کے بعد جس جانب دل مائل ہو اللہ پر اعتماد کرتے ہوئے اسے اختیار کرے۔ اس عمل کو مشورہ یا مشاورت سے تعبیر کیا جاتا ہے۔صالح، کامیاب اور پُر امن زندگی گزارنے کے لیے  ۔۔۔مزید پڑھیں

اولیا کرام میں سب سے بلند مراتب عارفین کو عطا ہوتے ہیں لیکن عارفین میں بلند ترین مقام ’’سلطان الفقر‘‘ کا ہے۔ فقر عین ذات پاک ہے اور سلطان الفقر وہ ہستی ہوتی ہے جو ذاتِ حق کا عین ہو ۔ یہ کہنا بھی ہرگز غلط نہ ہو گا کہ سلطان الفقر کے حقیقی مقام و مرتبے کو صرف اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے۔
سلطان الفقر کون ہیں؟
سلطان الفقر ہستیوں کی شان اور مقام و مرتبے کے بارے میں سب سے پہلے بانی سلسلہ سروری قادری، نورِ ھُو، سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیفِ مبارکہ’’رسالہ روحی شریف‘‘ میں ذکر فرمایا۔ آپؒ فرماتے ہیں:
* ’’جان لے جب نورِ احدی نے وحدت کے گوشۂ تنہائی سے نکل کر کائنات (کثرت) میں ظہور کا ارادہ فرمایا تو اپنے حسن کی تجلی سے رونق بخشی، اِس حسنِ بے مثال اور شمعِ جمال پر دونوں جہان پروانہ وار جل اُٹھے اور میم احمدی کا نقاب اوڑھ کرصورتِ احمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اختیار کی۔ پھر جذبات اور ارادات کی کثرت سے سات بار جنبش فرمائی جس سے سات ارواحِ فقرا با صفا فنا فی اللہ ،بقا باللہ تصورِ ذات میں محو ،تمام مغز بے پوست حضرت آدم علیہ السلام کی پیدائش سے ستر ہزار سال پہلے، اللہ تعالیٰ کے جمال کے سمندر میں غرق آئینہ یقین کے شجر پر رونما ہوئیں۔ انہوں نے ازل سے ابد تک ذاتِ حق کے سوا کسی چیز کی طرف نہ دیکھا اور نہ غیر حق کو کبھی سنا۔ وہ حریمِ کبریا میں ہمیشہ وصال کا ایسا سمندر بن کر رہیں جسے کوئی زوال نہیں۔ کبھی نوری جسم کے ساتھ تقدیس و تنزیہہ میں کوشاں رہیں اور کبھی قطرہ سمندر میں اور کبھی سمندر قطرہ میں اوراِذَا تَمَّ الْفَقْرُ فَھُوَ اللّٰہ (جہاں فقر کی تکمیل ہوتی ہے وہی اللہ ہے)کے فیض کی چادر ان پر ہے۔۔۔مزید پڑھیں

سیّد الکونین، سلطان الفقر، سلطان الاولیا، محبوبِ سبحانی، قطبِ ربانی، غوثِ صمدانی، شہبازِ لامکانی، پیر دستگیر، بازِ اشہب، پیرانِ پیر، نورِ مطلق، مشہود علی الحق، حقیقت الحق، قطب الکونین، قطب الاقطاب، غوث الثقلین، پیر میراں غوث الاعظم محی الدین سیّدنا شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے وزیر اور صاحبِ حضور ہیں۔ فقر میں آپ رضی اللہ عنہٗ کا مقام اور مرتبہ فہم و بیان سے بالاتر ہے۔ ہر ولی اور فقیر آپ رضی اللہ عنہٗ کے در کا غلام اور بھکاری ہونے پر فخر محسوس کرتا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہٗ کا فرمان مبارک ہے ’’میرا قدم تمام اولیا کی گردن پر ہے۔‘‘ اسی سے آپ رضی اللہ عنہٗ کے مقام و مرتبہ کا اندازہ ہو جاتا ہے۔
اللہ کے نیک بندے اور خاص کر سلطان الفقر ہستیاں دوسروں سے مختلف ہوتی ہیں اور ان کے اپنے ربّ سے معاملات بھی مختلف ہوتے ہیں۔ یہ آپ رضی اللہ عنہٗ کا اعلیٰ ترین مقامِ ولایت ہی ہے کہ آپ رضی اللہ عنہٗ کی باطنی نگاہ سے قزاقوں کا گروہ تائب ہو گیا اور آپ کے وسیلے سے ولایت کے درجہ تک پہنچا حالانکہ ابھی آپؓ نوجوانی کی عمر میں ہی تھے اور بظاہر مقامِ مرشدی پر فائز نہیں ہوئے تھے۔
آپ رضی اللہ عنہٗ کی جوانی عبادت و ریاضت میں گزری جبکہ اس عمر میں زیادہ تر لوگ دنیا کی طرف مائل ہوتے ہیں۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے اپنے نفس کا تزکیہ کرنے کے لیے بہت زیادہ ریاضت و مجاہدہ فرمایا۔ آپ رضی اللہ عنہٗ نے علمِ قرآن، علمِ تفسیر، علمِ حدیث، علمِ فقہ، علمِ لغت، علمِ شریعت، علمِ طریقت غرض کوئی علم ایسانہیں تھا جس میں آپ نے کاملیت اور عبور حاصل نہ کیا ہو۔
اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کو مختلف ناموں سے یاد فرماتا ہے جیسا کہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو مدثر، مزمل، یٰسین، طٰہٰ وغیرہ کے نام سے پکارا اسی طرح آپ رضی اللہ عنہٗ کو اللہ تعالیٰ نے ’’غوث الاعظم‘‘ کے لقب سے ۔۔۔مزید پڑھیں

سب کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں ہے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی طرف سے تھا اور ہوگا۔ (انسانِ کامل۔ سیّد عبدالکریم بن ابراہیم الجیلیؒ )
ایمان مومنین پر اللہ کا احسان ہے اور ایمان کا مرکز و محور آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے نسبت و تعلق ہی حقیقتاً ایمان ہے۔ یہ تعلق اگر مضبوط و مستحکم ہو تو ایمان کامل اور اگر کمزور ہو تو ناقص و نامکمل اور اگر خدانخواستہ یہ تعلق ٹوٹ جائے تو ایمان کلیتاً ختم ہو جاتا ہے۔
قرآنِ پاک میں اللہ تعالیٰ اس تعلق کو یوں بیان فرماتا ہے:
ترجمہ:پس جو لوگ اس(برگزیدہ رسولؐ) پر ایمان لائیں گے اور ان کی تعظیم و توقیر کریں گے اور ان کی مد د ونصرت کریں گے اور اس نور کی پیروی کریں گے جوان کے ساتھ اتارا گیا ہے وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔(سورۃ الاعراف۔157)
جو ذات باعثِ کائنات ہے اس سے عشق و محبت ،وفاواطاعت کے بغیر ایمان کے مکمل ہونے کا تصور ہی نہیں۔ اگراللہ تعالیٰ نے کائنات کو تخلیق کر کے مخلوقات میں اپنے ربّ ہونے کو ظاہر کیا ہے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی وجہ سے۔ اس لئے دین،ایمان،علم، ۔۔۔مزید پڑھیں

ظہورِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے پہلے عرب کی سر زمین غبارِ راہ سے کثیف اور جہالت سے گرد آلود تھی۔ کوئی انسانی و معاشرتی تنزلی ایسی نہ تھی جو کہ عرب معاشرے میں موجود نہ تھی اور انسانیت کو شرماتی نہیں تھی۔ سر زمین عرب صرف تپتا ہوا صحرا ہی نہیں تھی بلکہ جہالت اور حیوانگی کا مظہر تھی۔ عرب کی رگوں میں سختی،اڑیل پن، مردانگی کے بے ڈھنگے مظاہرے اور طاقتور کی حکمرانی کمزور و مظلوم کی سسکیوں کی روانی تک ہی محدود نہیں تھی بلکہ یہ لوگ اس معاشرے کے عکاس تھے جہاں صنفِ نازک کی قدر صرف ایک بچے پیدا کرنے والی ذات تک ہی محدود تھی۔ جہاں لڑکیوں کی بلوغت ان کے لئے خطرے کی علامت اور لڑکی کی پیدائش نامعلوم قبروں میں ایک اور قبر کے اضافے کا موجب ہوتا تھا۔ جہاں خاندان غلاموں، لونڈیوں، زناکاری اور بے تحاشا لڑکوں کے شوق میں ڈوبے رہتے تھے۔ عزت بس اس عورت تک محدود تھی جو صرف لڑکے پیدا کرتی تھی۔ لوگ قبائل میں بٹے ہوئے تھے اور قبائل جاہلانہ رسوم و رواج میں۔ رُسومات ایسی جو پتھر پر لکیر تھیں اور کسی انسانی جذبے یا ضرورت کی پرواہ نہ کرتی تھیں۔ صحرائے عرب کے لوگوں کی زندگی کا انحصار بھیڑ بکریوں، گھوڑوں، اونٹوں اور کھجوروں پر تھا۔ عرب مشرک لاتعداد فرقوں میں بٹے تھے اور لاتعداد خداؤں پر اعتقاد رکھتے ۔۔۔مزید پڑھیں

حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ارشاد فرمایا:
*اَلْفَقْرُ فَخَرِیْ وَالْفَقْرُ مِنِّیْ۔
ترجمہ :فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔
فقر دراصل حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقت کا نام ہے جس پر آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فخر فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ ایک ایسا گنجینہ ہے جس کی طلب ہر مومن و مسلمان کو ہے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقت تک رسائی کسی کسی کا نصیب ہے ہر کوئی اس حقیقت تک رسائی کا اہل نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ اور آپ کی حقیقت جیسی حقیقت اور کسی کی نہیں، جو راز آپ کی ذاتِ مبارکہ سے ظاہر ہواوہ کسی اور نبی و مرسل سے ظاہر نہیں ہوا۔ تب ہی تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اُمتی ہونے کی دعا کی۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا فرمانِ عالیشان ہے کہ لِیْ مَعَ اللّٰہِ وَقْتٌ لَا یَسْعُنِیْ فِیْہِ مَلَکٌ مُقَرَّبٌ وَلَا نَبِیٌّ مُرْسَلٌ۔
ترجمہ: اللہ تعالیٰ کے ساتھ میرا ایساوقت بھی ہے جس میں مجھ تک نہ کوئی مقرب فرشتہ پہنچ سکتا ہے اور نہ نبی مرسل۔
مندرجہ بالا حدیث سے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حقیقت واضح ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی مثل اور کوئی نہیں ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم بے مثل اور بے مثال ذات ہیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذاتِ مبارکہ کا احاطہ کرنا نا ممکنات میں سے ہے اور نہ ہی کوئی آج تک اس کا دعویٰ کر سکا ہے کیونکہ اس حدیث میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی بے مثل ذاتِ مبارکہ کے بارے میں اپنی زبانِ مبارک سے خود ہی فرما دیا کہ میں جب اللہ تعالیٰ کے ساتھ ہوتا ہوں تو مجھ تک کسی کی بھی رسائی نہیں ہوتی چاہے وہ کوئی فرشتہ ہو یا کوئی نبی و مرسل۔ اس حدیث سے ایک اور بات بھی ثابت ہوتی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہی وہ ہستی ہیں جو عالمِ ناسوت میں بشری لباس میں بھی اللہ تعالیٰ کے انتہائی قرب میں رہے اور کسی بھی مخلوق کو اللہ تعالیٰ نے اپنے اتنا قریب نہیں کیا۔ یہ فضیلت صرف ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم۔۔۔مزید پڑھیں

اللہ تعالیٰ بے انتہا حسین وجمیل ہے وہ چاہتا تھا کہ اس کے حسن کو کوئی دیکھے، تعریف کرے اور اس میں محو ہو کر ہر چیز بھلا دے۔ اس کے لیے ایک ایسا مجسم آئینہ درکار تھا جس میں وہ اپنا حسن ظاہر کر سکے۔یہی چاہت انسان کی تخلیق کا باعث بنی۔ اللہ تعالیٰ کی ذاتِ پاک کا سب سے کامل آئینہ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذاتِ بابرکات بنی۔سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو ؒ نے فرمایا ہے:
* ’’ جان لو کہ جب اللہ واحد نے حجلۂ تنہائی وحدت سے نکل کر کثرت میں ظہور فرمانے کا ارادہ کیا تو اپنے حسن و جمال کے جلوؤں کو صفائی دے کر عشق کا بازار گرم کیا جس سے ہر دو جہان اس کے حسن و جمال پر پروانہ وار جلنے لگے اس پر اللہ تعالیٰ نے میم احمدی کا نقاب اوڑھا اور صورتِ احمدی اختیار کی۔‘‘ (رسالہ روحی شریف)
صورتِ احمدی دراصل اللہ تعالیٰ کے نور کی بہترین صورت ہے جس میں کچھ کمی یا خامی نہیں ہے۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:
ترجمہ:’’اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق کہ اس میں چراغ ہے۔ چراغ فانوس میں ہے فانوس ایسے ہے کہ ایک موتی جو ستارے کی مانند چمکتا ہے۔ یہ چراغ اس برکت والے پیڑ زیتون کے تیل سے روشن ہوتا ہے جو نہ شرقی ہے نہ غربی۔ قریب ہے کہ اس کا تیل بھڑک اُٹھے۔ اگرچہ اُسے آگ نہ بھی چھوئے۔نور پر نور چھایا ہوا ہے۔ اللہ تعالیٰ اس نور کی طرف اسی کو ہدایت دیتا ہے جو اس کا طالب بنتا ہے۔‘‘ (سورۃ النور۔35 )
درج ذیل حدیث مبارکہ میں بھی اسی حقیقت کی طرف اشارہ ہے:
*  اَوَّلُ مَا خَلَقَ اللّٰہُ نُوْرِیْ۔
ترجمہ: سب سے پہلے اللہ نے میرے نور کو پیدا فرمایا۔
سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؓ فرماتے ہیں:
* جان لے کہ اللہ تعالیٰ نے سب سے پہلے روحِ محمد کو اپنے نورِ جمال سے پیدا کیا۔ جیسا کہ فرمان حق تعالیٰ ہے:
’’ میں نے روحِ محمد کو اپنے چہرے کے نور سے پیدا فرمایا۔‘‘ (مقدمہ سرّ الاسرار)
حضرت شاہ سیّد محمد ذوقی ؒ اپنی تصنیف ’’ سرِّ دلبراں‘‘ میں فرماتے ہیں:
* ’’آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اللہ تعالیٰ کا وہ نور ہیں جو سب سے ۔۔۔مزید پڑھیں

فقر (Faqr) کے لغوی معنی احتیاج کے ہیں۔ عام طور پر اس سے تنگ دستی’ غربت’ مفلسی اور ناداری مراد لی جاتی ہے۔ دینِ اسلام میں ”فقر” سے وہ راہ یا وہ طریق مراد ہے جو بندے اور اللہ کے درمیان سے تمام حجابات کو ہٹا کر بندے کو اللہ کے دیدار اور وصال سے فیض یاب کرتا ہے۔ ”فقر” (Faqr)دراصل دینِ اسلام کی حقیقت ہے۔ جو اولیاء کرام اور ہمارے سلف صالحین کا اللہ تک رسائی کا طریقہ رہا ہے لیکن دورِ جدید کے علمائے کرام اور مغرب زدہ طبقہ نے اس طریق اور علم سے ناواقفیت کی بنا پر عوام الناس کی توجہ اس راہ سے ہٹا کر ظاہریت پرستی کی طرف مبذول کرا دی ہے اور عوام روح اور اللہ کے تعلق کو بھلا کر صرف جسمانی اعمال و عبادات میں الجھ گئے ہیں۔ آج مسلمان بھی اس لفظ ”فقر” اور اس کی حقیقت سے اتنے ہی ناآشنا ہیں جتنے غیر مسلم ۔حالانکہ ہمارے آقا پاک صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فقر (Faqr)کو اپنا فخر فرمایا ہے اور اسے بطور خاص اپنی ذات سے منسوب فرمایا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ارشاد پاک ہے:اَلۡفَقۡرُ فَخۡرِیۡ وَالۡفَقۡرُ مِنِّی ترجمہ: فقر میرا فخر ہے اور فقر مجھ سے ہے۔اللہ تعالیٰ نے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کو بے حساب کمالات اور اوصاف سے نوازا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی کسی خوبی پر فخر نہیں فرمایا۔۔۔مزید پڑھیں

دینِ اسلام باطنی طور پر رجوع الی اللہ یعنی ہر طرف سے منہ موڑ کر اللہ کی طرف رجوع کرنے کا دین ہے اور ظاہری طور پر اسی رجوع الی اللہ کا ذریعہ بننے والے اعمال کا مجموعہ ہے۔ رجوع الی اللہ ہی دین کے تمام ظاہری و باطنی اعمال کا بنیادی مقصد ہے۔ اس مقصد کی تکمیل کے لیے اپنے بندوں کی رہنمائی کی خاطر اللہ تعالیٰ نے ہدایت کے دو ذریعے بنائے یعنی قرآن و سنت۔ ان دونوں میں سے کسی ایک کو بھی چھوڑ دینے، جھٹلانے یا اس کی آدھی ادھوری یا من پسند پیروی کرنے والا دین سے کچھ حاصل نہ کرپائے گا بلکہ دین و دنیا کے تمام معاملات میں صرف الجھاؤ اور ناقابلِ حل مسائل کا شکار رہے گا۔ آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کی ذاتِ مبارکہ قرآن کی عملی تفسیر اور دین کے تمام احکام کا عملی نمونہ ہے۔ ان کا ہر عمل خواہ وہ دین کے ظاہری پہلوؤں کے متعلق ہو یا باطنی، تمام اُمت کے لیے مشعلِ راہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو ہدایت، فلاح اور رجوع الی اللہ کا راستہ دکھاتے ہوئے فرمایا ترجمہ:’’اے ایمان والو! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) کے اسوۂ حسنہ میں تمہارے لیے بہترین نمونہ ہے‘‘ اور فرمایا ترجمہ:’’(اے پیارے محبوب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم)! کہہ دیجےۂ اگر تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرتے ہو تو میری پیروی کرو اللہ تعالیٰ تم سے محبت کرے گا‘‘۔۔۔مزید پڑھیں

مادی جسم کے اندر موجود باطنی انسان ایک جیتا جاگتا وجود ہے جو انسان کی توجہ کا طالب ہے۔ جس طرح مادی جسم کی تندرستی کے لیے صحیح غذا ضروری ہے اسی طرح باطنی وجود کی بھی غذا ہے جس سے وہ سکون محسوس کرتا ہے’ تندرست و توانا ہوتا اور قوت حاصل کرتا ہے۔ قرآن پاک میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:اَلَا بِذِکۡرِ اللّٰہِ تَطۡمَئِنُّ الۡقُلُوۡبُ  ط (الرعد۔28)  ترجمہ: بے شک ”ذکر اللہ” سے ہی قلوب کو اطمینان اور سکون حاصل ہوتا ہے۔یعنی اللہ کے اسم کے ذکر سے انسانی قلب یا روح کو سکون حاصل ہوتا ہے کیونکہ یہی اس کی غذا اور قوت کا باعث ہے۔ جو انسان اس ذکر سے روگردانی کرتا ہے۔۔۔مزید پڑھیں

قرآنِ مجید میں بھی وسیلہ تلاش کرنے کا حکم ہے۔یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّٰہَ وَ ابۡتَغُوۡۤا اِلَیۡہِ الۡوَسِیۡلَۃَوَجَاہِدُوۡافِیۡ سَبِیۡلِہٖ لَعَلَّکُمۡ   تُفۡلِحُوۡنَ   ترجمہ: اے ایمان والو !تقویٰ اختیار کرواور اللہ کی طرف وسیلہ پکڑو۔اس آیت مبارکہ میں ایمان لانے والوں کو دو باتوں کا حکم ہوا ہے اول تقویٰ اختیار کرنا دوم اللہ کی پہچان کے لیے وسیلہ پکڑنا، ڈھونڈنا یا تلاش کرنا۔و سیلہ کالغو ی معنی ”واضح راستہ اور ایسا ذریعہ ہے جو منزلِ مقصود تک پہنچادے اور اس حد تک معاون ومددگار ہو کہ حاجت مند کی حاجت باقی نہ رہے۔ اور اس وسیلہ کی بدولت۔۔۔مزید پڑھیں

جس طرح اسمِ” اللہ ”اللہ کا ذاتی نام ہے اور اس کی تمام صفات اور دیگر صفاتی ناموں کا احاطہ کرتا ہے اسی طرح اسم ” محمد”( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم )حضور سرورِ عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ذاتی نام ہے اور اُن کی تمام صفات اور ذات کی تمام خوبیوں کا جامع ہے اور ان کی ذات سے سب سے زیادہ وابستہ ہے اسی لیے تصورِ اسمِ محمد مجلسِ محمدی کی حضوری کے لیے سب سے پُر اثر اور طاقتور ذریعہ ہے۔ جو باطن میں دیدارِ الٰہی سے پہلے اہم مقام ہے۔ جسے مجلسِ محمدی ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم )کی حضوری حاصل ہوگئی اسے کامل دین حاصل ہوگیا۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی تصانیف میں اسمِ  اللہ ذات کے ساتھ ساتھ ۔۔۔مزید پڑھیں

فقر میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا سلسلہ سروری قادری ہے۔سلسلہ سروری قادری کا ایک سِرّ ہے اور یہ سِرّ لقائے الٰہی اور مجلس ِ محمدی کی حضوری ہے جوپیرانِ پیر دستگیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗنے اپنے فرزند سیّد نا عبدالرزاق رحمتہ اللہ علیہ کو اور انہوں نے اپنے پوتے سیّدنا عبد الجبار ابن ابو صالح نصر رحمتہ اللہ علیہ کو منتقل فرمایا ۔یہ سِرِّ لقائے الٰہی اور مجلس ِ محمدی کی حضوری والا کامل سلسلہ قادری ہے۔ ابتدا میں اس کو جباری گروہ کے نام سے پکارا گیا ۔محمد حسین دہلوی اپنی کتاب’’ تذکرہ الفقرا‘‘جس میں انہوں نے مختلف سلاسل کے فقرا سے ملاقاتوں کا تذکرہ فرمایا ہے، میں تحریر فرماتے ہیں کہ دورانِ سیاحت اُن کی ’’جباری گروہ کے کسی ۔۔.مزید پڑھیں

اسمِ  اللہ ذات کے ذکر کی چار منازل ہیں اَللّٰہُ لِلّٰہُ  لَہُ  ھُو اسمِ اللہ ذات اپنے مسمّٰی ہی کی طرح یکتا ‘ بے مثل اوراپنی حیرت انگیز معنویت وکمال کی وجہ سے ایک منفرد اسم ہے۔اس اسم کی لفظی خصوصیت یہ ہے کہ اگر اس کے حروف کو بتدریج علیحدہ کردیا جائے تو پھر بھی اس کے معنی میں کوئی تبدیلی نہیں آتی اورہر صورت میں اسمِ  اللہ ذات ہی رہتا ہے ۔ اسم اَللّٰہُکے شروع سے پہلا حرف اہٹا دیں تو لِلّٰہ رہ جاتا ہے اور اس کے معنی ہیں” اللہ کے لئے” اور یہ بھی اسمِ ذات ہے قرآن مجید میں ہے:لِلّٰہِ مَافِی السَّمٰوٰتِ وَمَافِی الْاَرْضِترجمہ: ”ﷲ ہی کے لئے ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے”۔اور اگر اس اسم پاک کا پہلا ل  ہٹا دیں تولَہُرہ جاتا ہے جس کے معنی ہیں”اس کے لئے” اور یہ بھی اسمِ ذات ہے ۔۔.مزید پڑھیں

انفاق کے لغوی معنی ’’خرچ کرنا‘‘ اور فی سبیل  اللہ کے معانی ہیں ’’ اللہ تعالیٰ کی راہ میں‘‘۔ اصطلاحِ شریعت میں اللہ کی رضا کے لیے اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کو انفاق فی سبیل اللہ کہا جاتا ہے۔
شریعت میں اللہ تعالیٰ کی راہ میں مال خرچ کرنے یعنی انفاق فی سبیل اللہ کی دو قسمیں ہیں۔ ایک انفاقِ واجبہ اور دوسری انفاقِ نافلہ۔ ان میں ایک قسم فرض اور دوسری نفلی صدقہ و خیرات کے زمرے میں آتی ہے۔۔۔مزید پڑھیں

موجودہ دور نفس پرستی کا دور ہے۔ اکثریت اللہ تعالیٰ کی بجائے نفس کے بتوں(نفسانی خواہشات کے بت) کی پرستش میں مصروف ہے۔ نفس اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان حجاب ہے اگر یہ حجاب درمیان سے ہٹ جائے تو اللہ تعالیٰ اور بندے کے درمیان کوئی پردہ نہیں رہتا۔ یہ حالت ’’قلبِ سلیم‘‘ کی منزل یعنی نفسِ مطمئنہ پر پہنچ کر حاصل ہوتی ہے ۔ریاکاری، نفاق، حُبِّ دنیا ، حُبُّ الشَہوات، بغض ، کینہ، حسد، غصہ، شہوتِ معدہ،۔۔۔مزید پڑھیں