شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدی رحمتہ اللہ علیہ

شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدیؒ

شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدی رحمتہ اللہ علیہ 16۔ اگست1801ء(5 ربیع الثانی 1216ھ) بروز اتوار بوقت فجر قصبہ حسووالی تحصیل شورکوٹ ضلع جھنگ ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا قبیلہ ایران کے شہر مشہد سے ہجرت کر کے پنجاب کے موجودہ ضلع راولپنڈی کے قریب آکر آباد ہوا۔حضرت امام بری رحمتہ اللہ علیہ کا تعلق بھی اسی قبیلہ سے ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا سلسلۂ نسب حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے توسط سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے۔ اسی مناسبت سے کاظمی اور المشہدی آپ رحمتہ اللہ علیہ کے نام کا حصہ ہے۔

آپ رحمتہ اللہ علیہ ازل سے امانتِ فقر کے لیے منتخب شدہ تھے اس لیے شروع ہی سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کا مکمل رجحان دین اور دینی علوم کی طرف تھا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے والد اکثر آپ رحمتہ اللہ علیہ کو حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے دربار پاک پر حاضری کے لیے لے جاتے۔ انہی حاضریوں کے دوران حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ آپ کو باطنی طور پر سیراب فرماتے رہے۔ جب آپ رحمتہ اللہ علیہ آٹھ سال کے ہوئے تو آپ رحمتہ اللہ علیہ کے والد ماجد نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو حصولِ علم کے لیے ملتان کے مشہور عالمِ دین مولانا عبیداللہ ملتانی رحمتہ اللہ علیہ کے پاس بھیجنے کا ارادہ کیا۔ ملتان روانگی سے قبل آپ رحمتہ اللہ علیہ نے سات دن حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پاک پر قیام فرمایا۔ سات دن بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ کے والد آپ رحمتہ اللہ علیہ کو سیّد عبیداللہ کے پاس چھوڑ کر واپس آگئے۔ جب مولانا عبید اللہ نے پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیم کا آغاز کیا تو ان کی حیرانی کی کوئی انتہا نہ رہی کہ وہ جو بھی علم سیّد بہادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ کوسکھانا چاہتے وہ انہیں پہلے سے ازبر ہوتا حتیٰ کہ پورا قرآن پاک بھی سنا دیا۔ سیّد عبیداللہ شاہ نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کے والد کو بلایا اور تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔ جب انہوں نے پیر بہادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ سے پوچھا کہ یہ علم انہوں نے کہاں سے سیکھا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ جن سات دنوں میں ان کا قیام حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے دربار پر رہا ان دنوں میں حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے انہیں علمِ لدّنی عطا فرمایا۔ یہ سن کر آپ رحمتہ اللہ علیہ کے والد محترم آپ رحمتہ اللہ علیہ کو سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پاک پر واپس لے آئے۔شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدی رحمتہ اللہ علیہ اس کے بعد تقریباً چالیس سال حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پاک پر مقیم رہے اور مختلف خدمات سر انجام دیتے رہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کی دربار پاک پر سب سے بڑی خدمت حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی کتب کے نسخہ جات کی نقل کر کے ان کو محفوظ کرنا تھا۔

تقریباً چالیس سال بعد1849ء میں حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو حکم دیا کہ اب گھر تشریف لے جائیں اور ہر ماہ سوموار کو باطنی محفل میں حاضر ہو جایا کریں۔ 1861ء تک معاملات اسی طرح چلتے رہے۔ پھر 1861ء میں ایک دن جب آپ رحمتہ اللہ علیہ دربار پاک پر حاضر ہوئے تو حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو شورکوٹ جا کر پیر محمد عبدالغفور شاہ رحمتہ اللہ علیہ سے دستِ بیعت ہونے کا حکم فرمایا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ شورکوٹ چلے گئے اور پیر محمد عبدالغفور شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔ بیعت کے بعد آپ رحمتہ اللہ علیہ کا یہ معمول بن گیا کہ دن اپنے مرشد پاک کی خدمت میں گزارتے اور رات حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے دربار پاک پر گزارتے۔
حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ اور پیر محمد عبدالغفور شاہ رحمتہ اللہ علیہ کی باطنی مہربانیوں سے پیر محمد بہادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ فقر کی اس انتہا پر پہنچے کہ حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے اپنا تمام خزانۂ فقر انہیں سونپ دیا اور انہیں اس خزانہ کا مکمل اختیار دے دیا اور فرمایا کہ”پیر صاحب آج تک جو طالبِ مولیٰ بھی میرے در پر آیا میں نے بلاواسطہ اُسے اس کی منزل تک پہنچایا لیکن اب قیامت تک جو طالبِ مولیٰ بھی میرے پاس آئے گا وہ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے واسطہ ہی سے فقر پائے گا”۔ پس اب فقر کے تمام معاملات آقا پاک علیہ الصلوٰۃ والسلام کی اجازت سے پیر بہادر علی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ کی زیرِ نگرانی طے پاتے ہیں۔آپ رحمتہ اللہ علیہ کو حضرت غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی بارگاہ سے ”شہبازِ عارفاں”کا لقب عطا ہوا۔

حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی تعلیمات کو عملی شکل دینے اور ان کے فیضِ سلطانی کو عام کرنے کے لیے پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے انقلابی قدم اُٹھائے۔ اس سلسلے میں آپ رحمتہ اللہ علیہ نے پہلی بار سونے کے اسمِ اللہ ذات تیار کروا کر طالبانِ مولیٰ کو ذکر و تصور کے لیے عطا کیے۔

حضرت پیر بہادر علی شاہ صاحب رحمتہ اللہ علیہ نے عارفانہ کلام کی صورت میں علومِ معرفت کا ایک خزانہ چھوڑا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا کلام عشقِ حقیقی کا اعلیٰ ترین نمونہ ہے۔ 
جب حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ نے آپ رحمتہ اللہ علیہ کو خزانہ فقر عطا فرمایا تھا تو ساتھ ہی فرمایا تھا کہ یہ سلطان الفقر پنجم کا خزانہ ہے جو آپ کو سلطان الفقر ششم کو منتقل کرنا ہے جو میری اولاد میں سے ہوگا۔ حضرت پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے عرض کی کہ میں اسے پہچانوں گا کیسے؟ سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ نے فرمایا کہ” میری اولاد میں ایک مردِ کامل پیدا ہوگا جو ختنہ شدہ اور ناف بریدہ ہوگا، اس کے گھر میں سلطان الفقر ششم کی ولادت ہوگی”۔ چنانچہ حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی اولاد پاک میں سے حضرت سخی سلطان محمدعبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ حضرت پیر بہادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ سے دستِ بیعت ہوئے جو سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے والد محترم تھے۔ حضرت سخی سلطان بہادر علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ نے خزانہ فقر سلطان محمد عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کو منتقل فرمایا اور یوں خزانہ فقر حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے خاندان میں واپس لوٹ آیا۔

شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدی رحمتہ اللہ علیہ نے ایک سوبتیس سال چھ ماہ کی طویل عمر پائی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا وصال 27فروری 1934 (14ذیقعد1352ھ) میں ہوا۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا مزار مبارک شورکوٹ (پاکستان) سے تیرہ کلومیٹر کے فاصلہ پر اڈہ قاسم آباد سے مشرق کی جانب دو کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا عرس مبارک ہر سال 25۔26اور 27فروری کو منعقد ہوتا ہے۔