قواعد و ضوابط

1۔  ”تحریک دعوتِ فقر” میں وہی لوگ شامل تصور ہوں گے جو سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ یا سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے دستِ بیعت ہوں گے یا انہوں نے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سے ذکر و تصور اسم ذات حاصل کیا ہوگا۔

2۔                           1۔   ہمارا دین اسلام ہے اور حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہمارے ہادی اور رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ہیں اور مشرباً ہم سروری قادری ہیں اور غوثِ الاعظم حضرت شیخ عبد القاد ر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ اور سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے ”طریقہ فقر” پر ہیں اور ہم حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حقیقی ورثہ ”فقر” کو عام کرنے نکلے ہیں۔اس لیے ہمارا کسی فرقہ ، مسلک اور مذہبی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی یہ کسی خاص فرقہ یا مسلک کی جماعت ہے اس میں سب فرقوں ، مسلکوں اور سلاسل کے لوگ اس نیت کے ساتھ شامل ہوسکتے ہیں کہ وہ ذکرو تصورِ اسمِ ذات سے تزکیہ نفس کرکے اپنے باطن کو درست کرکے صراطِ مستقیم حاصل کرسکیں کیونکہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ جو خود کو بدلنا نہیں چاہتا میں اس کی حالت نہیں بدلتا۔لیکن کسی کو بھی تحریک کے اندر فرقہ پرستی کے پرچار کی قطعاً اجازت نہیں دی جائے گی۔

                                 2۔”تحریک دعوتِ فقر”یا اس کا کوئی عہدیدار یا ذمہ دار کسی مسلک، فرقہ ، مذہبی جماعت،مذہبی سیاسی جماعت یا سیاسی جماعت پر تنقید نہیں کرے گا اور نہ ہی ان کے کسی جلسے، جلوس اور اجلاس میں شریک ہوگا۔

                               3۔”تحریک دعوتِ فقر”صرف فقر کی دعوت دے گی اور کسی مسلک، فرقہ پرستی اور سیاسی یا مذہبی جھگڑے میں ملوث نہ ہوگی۔

3۔     اہلِ بیت علیہم السلام سفینہ نوح کی مانند اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ستاروں کی مانند ہیں اور اُن سے یکساں محبت ایمان کا حصہ اور راہِ فقر میں معاون و مدد گار ہے۔ اہلِ بیت علیہم السلام سے محبت نہ رکھنے والا یا بغض رکھنے والا خارجی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے محبت نہ رکھنے والا اور اُن سے بغض رکھنے والا رافضی ہے۔ ایسے نظریات رکھنے والوں کے لیے ”تحریک دعوتِ فقر” میں کوئی جگہ نہیں ہے ۔ ہاں البتہ جو خلوصِ نیت سے حقیقت سے آگاہی چاہتا ہے وہ ”تحریک دعوتِ فقر ” میں شامل ہو سکتا ہے کیونکہ علمِ باطن ہی سے اہلِ بیت ؑ اور صحابہ کرامؓ کی عظمت سے آگاہی ہوتی ہے ۔علمِ ظاہر تو جھگڑے اور فساد پیدا کرتا ہے۔

4۔   اپنے مرشد پاک کی ہرہدایت پر بلاچُوں و چرا عمل کرنا ہوگا۔

5۔   مرشد کی ہدایت کے مطابق شریعت کی پابندی کریں، ذکر و تصورِ اسمِ  ذات پابندی سے کریں اورفقر کی جو تعلیم اور ہدایت دِی جائے ا س پر بھی سختی سے عمل کریں۔

6۔                         1۔تحریک دعوتِ فقر کا سیاست ، سیاسی معاملات یا سیاسی امور سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی تحریک کسی سیاسی جماعت اور اس کی پالیسیوں کی حمایت یا مخالفت کرے گی۔تحریک کے کسی بھی عہدیدار ، مجلسِ شوریٰ کے ممبر ، جنرل کونسل کے ارکان اور علاقائی عہدیداران کو سیاست میں حصہ لینے کی اجازت نہ ہوگی۔

                                  2۔ ”تحریک دعوتِ فقر” اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین کو تسلیم اور اس کا احترام کرتی ہے اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کا آئین ہر پاکستانی کو سیاسی امور میں حصہ لینے کی آزادی دیتا ہے ۔ لیکن تحریک دعوتِ فقر کا کوئی بھی مرکزی، علاقائی عہدیدار ، مجلسِ شوریٰ کا ممبر یا جنرل کونسل کا رکن اگر سیاست میں حصہ لینا چاہتا ہے تو اُسے اپنے عہدہ سے استعفیٰ دینا ہوگا اور وہ تحریک کا نام، اس کے وسائل، ارکان اور تحریک کا پلیٹ فارم اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال نہیں کرسکے گا۔

                                    3۔ انتخابات کے وقت ”تحریک دعوتِ فقر” یا اس کا کوئی عہدیدار، ذمہ دار اجتماعی یا انفرادی طور پر کسی سیاسی جماعت یا سیاسی مذہبی جماعت کو ووٹ دینے کا نہ تو حکم دے گا اور نہ ہی اس کے لیے جماعت کے اندر کام کرے گا۔ جماعت کے مخلصین کو اپنے اپنے ضمیر کے مطابق ووٹ دینے کا حق حاصل ہوگا اور وہ اُن کا ضمیر کے مطابق انفرادی فیصلہ ہوگا اور تحریک دعوتِ فقر اس کی ذمہ دار نہ ہوگی۔

7۔  تحریک سے منسلک لوگ اللہ تعالیٰ کی تمام مخلوق سے محبت کریں۔ کسی سے گناہ کی وجہ سے نفرت نہ کریں بلکہ گناہ سے نفرت کریں اور اپنے اس بھائی کو گناہ کی دلدل سے نکالنے کے لیے دعوتِ فقر دیں۔

8۔  قرآن پاک کی تلاوت کریں اور اس کی ایک ایک آیت پر غورو فکر کریں۔

9۔  آپس میں اختلافات سے گریز کریں اور جو کوئی ”تحریک دعوتِ فقر”میں نفاق پھیلا ئے تو اس کی اطلاع فوراً منتظمِ اعلیٰ یا مجلسِ شوریٰ کے کسی ممبر کو دیں تاکہ اس کو تحریک سے نکالا جاسکے۔

10۔  غصہ پر کنٹرول کریں کیونکہ غصہ شیطان کا ایک ہتھیار ہے غصہ لڑائی جھگڑا پیدا کرتا ہے اور لڑائی جھگڑے والے کو تحریک میں برداشت نہیں کیا جائے گا۔

11۔  کسی کو ”تحریک دعوتِ فقر”کے اندر اپنی ذاتی شخصیت کو نمایاں اور اجاگر کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی ۔یاد رکھیں بہتر وہ ہے جوتقویٰ میں سب سے آگے ہے اور سلطان العارفین ؒ کے قول کے مطابق تقویٰ صرف اور صرف اسمِ ھُو کے ذکر سے حاصل ہوتا ہے۔

12۔   اگر ”تحریک دعوتِ فقر”کے کسی بھی رکن کو کسی کی ذات سے کوئی تکلیف پہنچ جائے تو فوراً اس کو معاف کردیں دِل میں بغض، کینہ، حسد ، انتقام کا جذبہ رکھنا فقر کی راہ کو بند کر دیتا ہے۔

13۔  اگر تحریک کے ممبر سے کسی کو تکلیف پہنچے اور اس کی دِل آزاری ہو تو فوراً اس سے معافی مانگ لیں قطع نظراس کے کہ وہ آپ سے امیر ہے یا غریب ،چھوٹا ہے یا بڑا۔

14۔  عملی اور دنیاوی زندگی میں شرعی اصولوں کے مطابق خلوصِ نیت سے مکمل جد و جہد اور کوشش کریں۔ لیکن توکّل صرف اللہ تعالیٰ کی ذات پر کریں اور جو بھی نتیجہ نکلے اسے اللہ تعالیٰ کی رضا سمجھ کر سر تسلیمِ خم کردیں۔

15۔  یاد رکھیں کامیاب وہی ہوتا ہے جسے اپنے مشن پر یقینِ محکم ہو اور وہ اس مشن کو عام کرنے میں مسلسل عمل میں مصروف رہے اور مشن کی تکمیل محبت سے ہوتی ہے اور محبت ہی فاتحِ عالم ہے