21 مارچ۔ میلادِ مصطفی بسلسلہ یومِ منتقلی امانتِ الٰہیہ

21 مارچ۔ میلادِ مصطفی بسلسلہ  یومِ منتقلی امانتِ الٰہیہ 

رپورٹ: وقار احمد سروری قادری۔ سینئر ایڈیٹر ماہنامہ سلطان الفقر لاہور

تحریک دعوتِ فقر (رجسٹرڈ) پاکستان ہر سال بڑے ذوق و شوق سے21مارچ کو ایک عظیم الشان محفل میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا اہتمام کرتی ہے۔ یہ محفلِ میلاد یومِ منتقلی امانتِ الٰہیہ کے سلسلہ میں سجائی جاتی ہے۔ اس دن کی اہمیت و فضیلت کا اندازہ لگانے کے لیے ضروری ہے کہ پسِ منظر پر مختصراً روشنی ڈالی جائے تاکہ قارئین کرام باآسانی سمجھ سکیں کہ یہ بابرکت دن صرف تحریک دعوتِ فقر ہی کے لیے نہیں بلکہ فقر و تصوف کی دنیا کا اہم ترین دن ہے۔

پسِ منظر
حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ سلسلہ سروری قادری کے تیسویں (30) شیخِ کامل اور سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ کی مشہور و معروف تصنیف ’’رسالہ روحی شریف‘‘ میں بیان کردہ خصوصیات کے مطابق باطن کے اعلی ترین درجے یعنی ’سلطان الفقر‘ پر فائز ہیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ سلطان الفقر ششم ہیں۔ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی ؒ نے اپنی تمام زندگی اسمِ g ذات کے فیض کو عام کرنے میں صرف کر دی۔ اپنی نگاہِ کاملہ سے ہزاروں لاکھوں مریدین کا تزکیۂ نفس، تصفیۂ قلب اور تجلیۂ روح فرما کر انہیں بارگاہِ ربوبیت میں منظور و مقبول بنایا۔ باوجودیکہ آپؒ کے مریدین کی تعداد بہت کثیر تھی لیکن ایساہیرہ مَن موتی نہ مل پایا تھا جسے اپنا محرمِ راز بنا کر امانتِ فقر یعنی امانتِ الٰہیہ عطا کر سکیں۔ ایسے بیشتر مریدین جو وفا کا دَم بھرتے نہ تھکتے اورسچے عشق کادعویٰ کرتے تھے، عشق کی کسوٹی پر کسی طور بھی ’عاشق ‘ کے معیار پر پورا نہ اترے کیونکہ کسی نہ کسی مقام پر دنیا کی خواہش انکی نیت میں شامل ہو جاتی جس کے باعث وہ نام نہاد عاشق مرتبۂ محبوبیت سے گِر جاتے۔ سلطان الفقر ششم ؒ نے محرمِ راز کی تلاش کی غرض سے کچھ چنندہ مریدین کے ہمراہ 1995, 1996 اور 1997میں بالترتیب تین مرتبہ عمرہ ادا کیا۔ ہر مرتبہ عمرہ کی ادائیگی کے بعد منتخب شدہ ساتھیوں کو روضۂ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر پیش کیا جاتالیکن ان میں سے کوئی ایک بھی بارگاہِ رسالت مآب ؐ میں مقبول نہ ہو پایا۔ اس کے بعد سلطان الفقر ششمؒ نے پاکستان میں ہی دو افراد کو منتخب کیااور ان میں سے ایک کو ظاہری خلافت بھی عطا کی۔ افسوس! وہ حضرت تو ظاہری خلافت کی بھی حفاظت نہ کر پائے باطنی امانت کی حفاظت کیا کرتے۔
اسی دوران 12اپریل 1998ء بمطابق 14ذوالحجہ1418ھ کو سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس آپؒ کی بارگاہ میں پہنچے اور آپؒ کی غلامی کا طوق اپنے گلے میں ڈال لیا۔ سلطان العاشقین اپنے مرشد و ہادی سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علیؒ کی ذات میں اسطرح فنا ہوئے کہ اپنے مرشد کا ہی عکس بن گئے۔ جب سلطان الفقر ششمؒ نے اپنے اس جانثار اور وفا شعار مریدِ خاص کو ظاہری و باطنی ہر لحاظ سے خوب اچھی طرح پرکھ لیا تو فریضۂ حج کی ادائیگی کا قصد فرمایا۔ فروری 2001میں آپؒ نے سلطان العاشقین اور کچھ منتخب طالبانِ مولیٰ اور اپنے خاندان کے چند افراد کے ہمراہ حج ادا کیا۔ اراکینِ حج کی ادائیگی کے بعد قافلہ 18مارچ 2001کو مدینہ منورہ پہنچا۔ بالآخر21مارچ 2001کو وہ مبارک گھڑی آن پہنچی جس کا انتظار سلطان الفقر ششمؒ برسوں سے کر رہے تھے۔ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کوامانتِ فقر کی منتقلی کے لیے بارگاہِ نبوت میں پیش کیا۔ اس مرتبہ آپؒ کی محنت رنگ لے آئی کیونکہ اس مرتبہ جس مرید خاص کو آپؒ نے منتخب کیا تھا وہ بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں منظور و مقبول ہو گیااور امانتِ الٰہیہ یعنی امانتِ فقر، فقر کے منبع ومرکز حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ سے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو منتقل ہو گئی۔
معزز قارئین کرام! تحریک دعوتِ فقر (رجسٹرڈ) پاکستان اسی مبارک دن کی یاد میں اللہ ربّ العزت کے حضور اظہارِ تشکر کے طور پر ہر سال 21مارچ کو فقید المثال محفل میلادِ مصطفیؐ منعقد کرتی ہے۔ سال 2019ء کی پُر وقارمحفل کا خاکہ ذیل میں رقم کیا جا رہا ہے۔

پروگرام کی تیاری
تحریک دعوتِ فقر کا ہر شعبہ اس محفل کی تیاری میں بھرپور حصہ لیتا ہے ۔ رواں سال بھی مختلف شعبہ جات نے اس محفل کو کامیابیوں سے ہمکنار کرنے کے لیے اپنے فرائض انجام دیے۔ شعبہ جات کی چیدہ چیدہ سرگرمیاں درج ذیل ہیں:

۱۔ شعبہ پبلیکیشنز
سلطان الفقر پبلیکیشنز نے 21مارچ کے پُر مسرت موقع پر دو (2) انتہائی اہم موضوعات (خانقاہ اور بیعت )پرنئی کتب شائع کرنے کا اہتمام کیا۔ تصوف کی دنیا میں یہ دونوں موضوعات بہت اہمیت کے حامل ہیں لہٰذا سلطان الفقر پبلیکیشنز کی تمام ٹیم نے انتہائی ذمہ داری اور تحقیق کے بعد ’’خانقاہ سلسلہ سروری قادری‘‘ اور ’’بیعت کی اہمیت و ضرورت‘‘ کے نام سے دو کتب شائع کیں جو 21مارچ کے روز سلطان الفقر پبلیکیشنز کے بک سٹال کی زینت بنیں۔ سلطان الفقر پبلیکیشنز کے ذیلی ادارہ ماہنامہ سلطان الفقر میں بھی اس دن کی اہمیت اجاگر کرنے کے لیے مضامین شائع کیے گئے۔علاوہ ازیں نہایت خوبصورت اور دلکش اشتہارات اور فلیکس بھی تیا ر کی گئیں اور شہر بھر کے مشہور مقامات پر آویزاں کی گئیں۔علاقائی جماعتوں نے بھی شعبہ پبلیکیشنز کی مدد و تعاون سے اپنے اپنے علاقہ میں اشتہارات اورفلیکس لگائے۔

۲۔ شعبہ سوشل میڈیا
دورِ حاضر میں سوشل میڈیا (سماجی رابطے کے ذرائع) کی اہمیت کو جھٹلایا نہیں جا سکتا۔ اگر یہ کہا جائے کہ نوجوان نسل تک رسائی اور اپنا پیغام پہچانے کا اس سے بہتر اور مؤ ثر ذریعہ اور کوئی نہیں تو یقیناًیہ غلط نہ ہوگا۔ جدید عصری تقاضوں کے پیشِ نظر تحریک دعوتِ فقر کا شعبہ سوشل میڈیا سماجی رابطے کے ہر اس ذریعے کو بروئے کار لا رہا ہے جوآجکل کی نوجوان نسل کی توجہ کا مرکز ہے مثلاً فیس بک (ٖFacebook)، ٹوئیٹر (twitter)، پِنٹرسٹ (Pinterest)، انسٹا گرام (Instagram) اور لِنکڈ اِن (LinkedIn) وغیرہ۔ شعبہ سوشل میڈیا نے ان تمام ذرائع کو استعمال کرتے ہوئے دعوتِ حق عام عوام خاص کر نو جوان طبقے تک پہنچا نے میں بھرپور کردار ادا کیا۔ 21مارچ کے دن کی اہمیت، گدی نشینی یا سجادہ نشینی اور امانتِ فقر یا امانتِ الٰہیہ میں فرق ، مرشد کامل اکمل کی ضرورت و اہمیت جیسے موضوعات پر تحقیق شدہ مواد کو سوشل میڈیا کے تمام ذرائع پر انتہائی خوبصورتی سے عام کیا گیا۔

۳۔ شعبہ ڈیجیٹل پرڈکشن
آج کل کے زمانے میں یو ٹیوب (Youtube) اور ڈیلی موشن (Dailymotion) سے کون واقف نہیں۔دنیا جہان کی ہر خبر آن کی آن میں ان ویب سائٹس پر دستیاب ہوتی ہے۔ تحریک دعوتِ فقر کے شعبہ ڈیجیٹل پروڈکشن نے 21مارچ کو ہو نے والی محفل میلادِ مصطفیؐ بسلسلہ یومِ منتقلی امانتِ الٰہیہ کے متعلق کئی آڈیو اور ویڈیو اشتہارات بنا کر ان ویب سائٹس پر چلائے۔ ان اشتہارات میں نہ صرف یومِ منتقلی امانتِ الٰہیہ کی اہمیت اجاگر کی گئی تھی بلکہ گزشتہ سالوں میں منعقد ہونے والی محافل کی جھلکیاں بھی دکھائی گئیں جس کی بدولت کثیر تعداد میں عقیدتمندوں نے اس محفل میں شرکت کی خواہش کا اظہار کیا۔

۴۔ شعبہ دعوت و تبلیغ
جیسا کہ نام سے ظاہر ہے اس شعبہ کا کام لوگوں کو معرفتِ الٰہی کی دعوت دینا ہے اور لوگوں کو مرشد کامل اکمل کے دستِ اقدس پر بیعت ہو کر ذکر و تصور اسم اللہ ذات کی نعمت حا صل کرکے تزکیۂ نفس کی ضرورت و اہمیت سے آگاہ کرنا ہے۔ شعبہ ہٰذا کے ممبران نے ملک بھر میں شہر شہر جا کر لوگوں کو اس بابرکت دن کی فضیلت سے روشناس کروایا اور 21مارچ کی با برکت محفل میں شمولیت کی دعوت بھی دی۔ منتقلی امانتِ الٰہیہ سے متعلق لوگوں کے ذہن میں اُٹھنے والے سوالات کے قرآن و حدیث کی روشنی میں تسلی بخش جوابات دیے گئے۔

۵۔شعبہ خانقاہ سروری قادری
21مارچ کی محفل خانقاہ سلسلہ سروری قادری 4-5/Aایکسٹینشن ایجوکیشن ٹاؤن وحدت روڈ لاہور میں ہونا قرار پائی تھی لہٰذا خانقاہ کی سجاوٹ، انتظامات اور امور مہمان داری سب کے سب نہایت اہم معاملات تھے۔ محفل سے کئی روز قبل ہی خانقاہ سلسلہ سروری قادری کو رنگ برنگ کے برقی قمقموں سے بہت خوبصورتی سے سجا دیا گیا ۔ خانقاہ کے اندر تحریک دعوتِ فقر کی جھنڈیاں لگائی گئیں جبکہ خانقاہ کے باہر محفل میلادِ مصطفیؐ کی فلیکس آویزاں کی گئی۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے مریدین اندرون و بیرون ملک دنیا کے ہر کونے میں موجود ہیں۔ اس پُر نور محفل میں بیرونِ ملک سے بھی مریدین حاضری کے لیے تشریف لائے اور اندرون ملک کے دور دراز علاقوں سے ساتھی محفل سے ایک روز قبل ہی خانقاہ تشریف لے آئے۔ محفل سے ایک روز قبل ہی مریدین کی بہت بڑی تعداد خانقاہ میں جمع ہو گئی۔ان تمام ساتھیوں کی رہائش، لنگر اور دیگر ضروریات کا بہت مناسب انتظام کیا گیا تھا۔ 
خانقاہ کے علاوہ سلطان العاشقین ہاؤس کی سجاوٹ میں بھی کوئی کسر نہ چھوڑی گئی۔ پورے گھر پر برقی قمقموں کی آرائش یوں محسوس ہوتی تھی جیسے آسمان سے ستارے زمین پر اُتر آئے ہوں۔ سلطان العاشقین ہاؤس کے باہر بھی محفلِ میلاد کی ایک خوبصورت فلیکس نصب کی گئی۔ مندرجہ بالا شعبہ جات کے علاوہ مزید کئی شعبے اپنے اپنے دائرہ کار کے مطابق محفل کی تیاری میں معاون و مددگار رہے۔ طوالت کے باعث تمام کا ذکر ممکن نہیں ہے لہٰذا قارئین کو مزید انتظار کروائے بغیر محفل کی تفصیل درج ذیل ہے:

سلطان العاشقین کی آمد اور استقبال

جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے کہ محفل میں شمولیت کے لیے اندرون و بیرون ملک سے مریدین کی کثیر تعداد ایک روز قبل ہی خانقاہ پہنچ چکی تھی۔ محفل کے آغاز کا وقت10بجے صبح مقرر کیا گیا تھا لیکن مریدین کا شوق اور جذبہ دیدنی تھا۔ نمازِ فجر کے بعد سے ہی خانقاہ میں خوب چہل پہل شروع ہو گئی اور مریدین اپنے مرشد و ہادی سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے پُر تپاک استقبال کی تیاریوں میں مصروف ہو گئے۔ تحریک دعوتِ فقر کی انتظامیہ نے سلطان العاشقین کے استقبال کے لیے بھرپور انتظامات کر رکھے تھے۔ محفل کے آغاز کا وقت قریب آ رہا تھا اور مریدین کی بیتابی بڑھتی چلی جا رہی تھی کہ مرشدِ کریم تشریف لائیں اور ان کے دیدار سے اپنی آنکھوں کو سیراب کیا جائے۔ شعبہ سیکورٹی کے جوانوں کا چاق و چوبند دستہ سلطان العاشقین ہاؤس پہنچ چکا تھا تاکہ سلطان العاشقین کو نہایت اعزاز و اکرام اور عالی شان طریقے سے سلطان العاشقین ہاؤس سے خانقاہ سلسلہ سروری قادری تک لایا جائے۔ جونہی سلطان العاشقین اور صاحبزادہ سلطان محمد مرتضیٰ نجیب صاحب اپنی رہائش گاہ سے باہر تشریف لائے ، سیکورٹی کے جوانوں نے انتہائی پھرتی اور خوبصورتی سے سلامی کا نذرانہ پیش کیا۔ سلطان العاشقین اور صاحبزادہ سلطان محمد مرتضیٰ نجیب صاحب اپنی سواری میں سوار ہوئے ۔ سیکورٹی پر مامور جوانوں نے سواری کے آگے اور پیچھے اپنی اپنی مخصوص جگہ سنبھالی اورسلطان العاشقین کی سواری سیکورٹی گارڈز کے ہمراہ خانقاہ سلسلہ سروری قادری کی طرف روانہ ہوئی۔ اُدھر خانقاہ کے باہر گزر گاہ کے دونوں جانب مریدین گلاب کی پتیاں تھامے اپنے مرشد کی آمد کے منتظر تھے۔ جونہی مرشد کریم کی سواری خانقاہ کے قریب پہنچی تو استقبال کے منتظرمریدین کے چہرے خوشی سے دَمک اُٹھے۔ قطاروں میں کھڑے مریدین دیوانہ وار پھولوں کی پتیاں نچھاور کر رہے تھے۔ ساتھ ہی ساتھ اپنی محبت و عقیدت کے اظہار کے طور پر ’سلطان العاشقین زندہ باد، امامِ مبین سلطان العاشقین، مجددِ دین سلطان العاشقین، نورِ یقین سلطان العاشقین ‘ کے نعرے لگاتے نہیں تھکتے تھے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے ہاتھ ہلا کر عقیدتمندوں کے نعروں کا جواب دیا تو جذبۂ عشق مزید بھڑک اٹھا۔ سلطان العاشقین اور صاحبزادہ سلطان محمدمرتضیٰ نجیب صاحب اپنی سواری سے باہر تشریف لائے تو دیدار کے مشتاق عاشقانِ مولیٰ کے جذبات دیدنی تھے۔ محمد عبد اللہ اقبال سروری قادری اور ڈاکٹر حسنین محبوب سروری قادری نے سلطان العاشقین اور صاحبزادہ صاحب کو پھولوں کے گلدستے پیش کیے۔ آپ مدظلہ الاقدس صاحبزادہ کے ہمراہ خانقاہ کے اندر داخل ہوئے اور مسندِ صدارت پر جلوہ افروز ہونے سے قبل تمام مریدین کے نعروں کا ایک مرتبہ پھر جواب دیا اور شان دار استقبال پر سب کا شکریہ ادا کیا۔ 

آغازِ محفل
تحریک دعوتِ فقر کے منتظمِ اعلی محترم جناب ملک محمد نعیم عباس کھوکھر سروری قادری نے نقابت کے فرائض سنبھالے اور حاضرینِ محفل کو چند ضروری ہدایات سے آگاہ کیا جن میں آدابِ محفل اور آدابِ مرشد شامل تھے۔ملک محمد نعیم عباس سروری قادری نے مرشد کریم سے محفل کے آغاز کی اجازت طلب کی اور محفل کے باقاعدہ آغاز کے لئے مولانا محمد اسلم سروری قادری کو تلاوتِ قرآن پاک کے لیے سٹیج پر مدعو کیا۔ مولانا محمد اسلم سروری قادری نے تلاوت اور ترجمہ کی سعادت حاصل کی۔ 

خدا کا ذکر کرے، ذکرِ مصطفیؐ نہ کرے
ہمارے منہ میں ہو ایسی زباں، خدا نہ کرے

تلاوتِ قرآن پاک کے بعد بارگاہِ نبوتؐ میں ہدیۂ نعت پیش کرنے کے لیے محسن رضا سلطانی سٹیج پر تشریف لائے اور ’’زمانہ حضورؐ دا اے‘‘ اپنی دلکش آواز میں پڑھ کر حاضرینِ محفل کے دل عشقِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے سرشار کر دئیے۔ نعتِ رسولِ مقبولؐ کے بعد ملک محمد نعیم عباس کھوکھر سروری قادری نے ایک مرتبہ پھر مولانا محمد اسلم سروری قادری کو سٹیج پر دعوت دی تاکہ وہ محفل کی مناسبت سے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی سیرتِ طیبہ اور آپؐ کی وراثتِ حقیقی یعنی ’فقر‘ اور امانتِ فقر یا امانتِ الٰہیہ پر روشنی ڈالیں۔ مولانا محمد اسلم سروری قادری نے اپنے جوشیلے اندازِ بیان سے حاضرینِ محفل کے دل جیت لیے۔ انتہائی آسان فہم اور خوبصورت انداز سے فقرِ محمدیؐ کی وضاحت فرمائی جو حاضرین کے دلوں میں اُتر گئی۔
مولانا محمد اسلم سروری قادری کے جوشیلے بیان کے بعد ملک محمد نعیم عباس کھوکھر سروری قادری نے محمد رمضان باھو صاحب کو مرشدِ کریم کی شان میں منقبت کا نذرانہ پیش کرنے کے لیے سٹیج پر مدعو کیا۔ قارئین کرام کو مطلع کرتے چلیں کہ محمد رمضان باھو کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ انہوں نے پہلی مرتبہ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ کے مکمل 201ابیات اپنی خوبصورت آواز میں ریکارڈ کروائے ہیں۔ یہ محض مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی خاص مہربانی کی بدولت ہے وگرنہ اس سے قبل بے شمار لوگ مکمل 201ابیات پڑھنے کی کوشش میں ناکام رہے ہیں۔محمد رمضان باھو نے اپنے مرشد کی شان میں کلام ’’مرشدنجیب سائیں‘‘ جب اپنی منفرد آواز میں حاضرین کی سماعتوں کی نذر کیا تو لوگ بلا اختیار عش عش کر اُٹھے۔ اس دوران ملک کے مختلف علاقوں سے مریدین کی آمد کا سلسلہ بھی جاری رہا اور دیکھتے ہی دیکھتے پنڈال کھچا کھچ لوگوں سے بھر گیا۔ تحریک دعوتِ فقر کی انتظامیہ نے مریدین اور عقیدتمندوں کی متوقع کثیر تعداد کے پیشِ نظر قبل از وقت خانقاہ کے باہر بھی انتظامات کر رکھے تھے۔ خانقاہ کے باہر بیٹھنے والے افراد کے لیے خصوصی طور پر ایک بڑی سکرین لگائی گئی تھی تاکہ وہ بھی محفل کے تمام مناظر سے براہِ راست فیض یاب ہو سکیں۔خانقاہ کے باہر سلطان الفقر پبلی کیشنز کا سٹال بھی لگایا گیا تھا جہاں سلطان الفقر پبلی کیشنز کی تمام کتب خصوصی رعایت کے ساتھ دستیاب تھیں۔ 21مارچ کے پر مسرت موقع پر شائع ہونے والی دو (2) نئی کتب ’’خانقاہ سلسلہ سروری قادری‘‘ اور ’’بیعت کی اہمیت و ضرورت‘‘ شائقین کی توجہ کا مرکز بنی رہیں۔ نئی کتب کے علاوہ سلطان الفقر پبلی کیشنز نے تحریک دعوتِ فقر کے نام سے مزّین لفافہ جات بھی پرنٹ کروائے۔ شائقین نے اس اقدام کو خوب سراہا۔ 
محمد رمضان باھو کی منقبت کے بعد عطا الوہاب سروری قادری سٹیج پر تشریف لائے اور اپنے مرشد کریم کی شان میں خوبصورت منقبت پیش کی اور حاضرین سے خوب داد وصول کی۔عطاالوہاب کی منقبت کے بعد محمد فاروق ضیا سروری قادری نے سجادہ نشینی، خلافت اور فقیر کامل کے متعلق پُرمغز تقریر پیش کی۔ محمد فاروق ضیا سروری قادری اپنے سادہ مگر جوشیلے اندازِ بیان اور اپنی بات کو دلچسپ مثالوں کے ذریعے بیان کرنے کی بنا پر عوام الناس میں بہت مقبول ہیں لہٰذا اس محفل میں بھی اپنے اسی خاصے کی بدولت انہوں نے اہلِ ذوق سے خوب داد وصول کی۔ محمد فاروق ضیا سروری قادری نے اپنی تقریر میں ’سلطان العاشقین بطور فقر کا مرکز‘ کے نکتے کو نہایت خوش اسلوبی سے حاضرین کے گوش گزار کیا۔ اس کے علاوہ یہ بھی وضاحت فرمائی کی امانتِ فقر کس کس شیخِ کامل سے منتقل ہوتی ہوئی اب سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس تک پہنچی۔ محمد فاروق ضیا سروری قادری کے ولولہ انگیز بیان کے بعد پھر محسن رضا سلطانی کو سٹیج پر دعوت دی گئی۔ محسن رضا سلطانی نے بھی مرشد کریم سے محبت و عقیدت کا اظہار کرتے ہوئے انتہائی عمدہ منقبت در شان سلطان العاشقین پیش کی۔ محفل اپنے اختتام کی طرف بڑھ رہی تھی لیکن حاضرینِ محفل کا جوش و خروش قابلِ دید تھا۔ نعت خواں حضرات اور مقررین نے بہترین کارکردگی کے باعث وقت گزرنے کا احساس تک نہ ہونے دیا۔محسن رضا سلطانی کی پر جوش منقبت کے بعد رمضان باھو نے مرشد پاک کی شانِ اقدس میں سی حرفی ’غوث وی آئے قطب وی آئے‘ پڑھ کر سماں باندھ دیا۔ 
تمام نعت خواں حضرات اور مقررین کے بعد محترم جناب نعیم عباس سروری قادری صاحب نے سلطان الفقر پبلی کیشنز کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے نئی شائع ہونے والی دونوں کتب کا باقاعدہ تعارف کروایا۔

سلطان العاشقین کے اعلانات

21مارچ کی با برکت محفل کے اختتام پر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے چند نہایت اہم اعلانات فرمائے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اپنی دستار مبارک اپنے سر سے اتار کر محمد عبد اللہ اقبال سروری قادری کے سر پر رکھی اور انہیں اپنی خلافت عطا فرمائی اور اس امر کی وضاحت بھی فرما دی کہ محمد عبداللہ اقبال سروری قادری اپنے خلوص، لگن، محبت، عشقِ مرشد اور ثابت قدمی کی بنا پر خلافت کے حقدار قرار پائے ہیں۔ اس کے بعد آپ مدظلہ الاقدس نے دوسری دستار اپنے سرِ اقدس پر پہنی اور پھر یہ دستار اتار کر ڈاکٹر حسنین محبوب سروری قادری کے سر پر رکھی اور انہیں بھی اپنی خلافت عطا فرمائی۔ پھر آپ مدظلہ الاقدس نے ایک نئی دستار اپنے سرِ اقدس پر پہن لی۔ آپ مدظلہ الاقدس نے فرمایا کہ نہ صرف ڈاکٹر حسنین بلکہ ان کا پورا خاندان ایک طویل عرصہ سے ہمارے ساتھ نہایت وفاداری اور استقامت کے ساتھ چل رہا ہے۔ ان پُر مسرت اعلانات کو سن کر تمام معتقدین میں خوشی کی لہر دوڑ گئی اور سب نے ’’سلطان العاشقین زندہ باد‘‘ کے نعرے لگائے۔

اسمِ محمدؐ کی تقسیم

تحریک دعوتِ فقر کے بانی و سرپرستِ اعلیٰ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس ہر سال 12ربیع الاوّل کو جشنِ عید میلاد النبیؐ کے موقع پر ان خوش نصیب مریدین کو اسمِ محمدؐ کی لا زوال نعمت سے نوازتے ہیں جو ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات میں ترقی کر چکے ہیں۔ رواں سال 2019 ؁ء اس لحاظ سے بہت ہی با برکت ہے کہ سلطان العاشقین نے ربیع الاوّل میں منعقد ہونیوالی محفل میلاد مصطفی ؐ کے ساتھ ساتھ 21مارچ کی محفل میں بھی اسمِ محمدؐ کا فیض عام کرنے کا اعلان فرمایااور طالبانِ مولیٰ کی کثیر تعداد کو اسمِ محمدؐ سے نوازا گیا۔ قارئین کرام ! اسمِ محمدؐ کی یہ تقسیم نہایت غیر جانبدار اور سراسر باطنی معاملہ ہے۔ ایسے مریدین جو ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات میں کامل ہو جاتے ہیں، اپنے مرشد کی عطا کردہ ڈیوٹی کو خلوصِ نیت سے ادا کرتے ہیں اور مرشد کے ساتھ اپنے باطنی تعلق کو مستحکم بنانے کے لیے صحبتِ مرشداختیا ر کرتے ہیں، وہی خوش نصیب طالبانِ مولیٰ اس عظیم نعمت کے مستحق ٹھہرتے ہیں۔ جب تمام خوش نصیب طالبانِ مولیٰ کو اسمِ محمدؐ عطا کر دئیے گئے تو مولانا محمد اسلم سروری قادری نے ختم شریف پڑھا۔ محمد فاروق ضیا سروری قادری نے نہایت دلسوز انداز میں جامع دعا کروائی اور حاضرینِ محفل کی تمام ظاہری وباطنی مشکلات کے خاتمے کے لیے اللہ تعالیٰ کے حضور عرض کی۔محسن رضا سلطانی اور محمد ساجد نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی بارگاہ میں درود و سلام کا نذرانہ پیش کیا۔درود و سلام کے اختتام پر مولانا محمد اسلم نے دعا کروائی۔ دعا کے رقت آمیز مناظر الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں۔دعا کا ایک ایک حرف قبولیت کے درجے کو پہنچتا محسوس ہو رہا تھا۔یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے اللہ ربّ العزت کا خاص نور زمین پر اُتر آیا ہو۔ شرکائے محفل کے دل انتہائی پر سکون اور پر مسرت تھے۔ 

بیعت
ہدیۂ درود و سلام اور دعا کے بعد بیعت کا سلسلہ شروع ہوا۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس بیعت کے پہلے روز ہی سنہری حروف سے لکھا اسمِ اللہ ذات کا تصور، ذکر کے لیے سلطان الاذکار ’ھُو‘ اور مشق مرقومِ وجودیہ عطا کرتے ہیں۔ سلطان الاذکار ھُو ذکر کی انتہائی منزل ہے ۔ اس کے بعد یا اس سے بڑھ کر کوئی ذکر نہیں۔ جو افرادبغیر بیعت کے صرف ذکر و تصور کی نعمت حاصل کرنا چاہیں تو انہیں بھی سنہری حروف میں لکھا ہوا اسمِ اللہ ذات عطا کیا جاتا ہے لیکن ذکر کی پہلی منزل یعنی ’ اللہ ھُوْ‘ کا ذکر عطا کی جاتی ہے۔ 21مارچ کی محفل میلاد بسلسلہ یومِ منتقلی امانتِ الٰہیہ میں بھی شرکا کی بہت بڑی تعداد نے سلطان العاشقین کے دستِ اقدس پر بیعت ہونے کا شرف حاصل کیا۔ بیعت مکمل ہونے کے بعد حضور مرشد کریم نے بذاتِ خود اسمِ اللہ ذات کو اپنے دستِ اقدس میں تھام کر اسکی اہمیت اور ذکر وتصور کی فضیلت بیان کی۔ ساتھ ہی ساتھ کچھ ساتھیوں کی ڈیوٹی بھی لگائی کہ بیعت ہونے والے تمام ممبران کو ذکر و تصور اور مشق مرقوم وجودیہ کا طریقہ کار تفصیلاً سمجھائیں۔بیعت ہونے والے ساتھیوں کے لیے سلطان العاشقین نے دعائے خیر فرمائی اور پابندی اور باقاعدگی سے ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات کرنے کی ہدایت بھی فرمائی۔

نمازِ ظہر کی ادائیگی اور خانقاہ سے روانگی

نمازِ ظہر کی ادائیگی کے لیے حافظ ناصر مجید سروری قادری نے اذان دی۔ سنتیں ادا کی گئیں اور مولانا محمد اسلم سروری قادری کی امامت میں حاضرین نے باجماعت نماز ادا کی۔نماز کے بعد حضور مرشد کریم نے رخصت کی اجازت طلب کی۔ علاقائی جماعتوں سے ترتیب وار ملاقات کرنے کے بعد دیگر شرکائے محفل سے فرداً فرداً ملاقات فرمائی۔ خانقاہ سے رخصت ہوتے وقت آپ مدظلہ الاقدس نے لنگر تیار کرنے والے ممبران کو بُلوا کر خصوصی ملاقات فرمائی۔ اتنی کثیر تعداد میں حاضرین کے لیے لنگر تیار کرنے کی کاوش کو سراہتے ہوئے سب کو گلے لگا کر داد دی۔ سیکورٹی کے جوان اپنے مرشد کریم کو انکی رہائش گاہ‘ سلطان العاشقین ہاؤس پہنچانے کے لیے چاق و چوبند تیار تھے۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنی سواری میں سوار ہوئے اور سیکورٹی جوانوں کے ہمراہ سلطان العاشقین ہاؤس تشریف لے گئے جہاں خواتین مریدین کی کثیر تعداد آپ مدظلہ الاقدس کا بے تابی سے انتظار کر رہی تھی۔سلطان العاشقین کے خانقاہ سے تشریف لے جانے کے بعد لنگر کی تقسیم شروع ہوئی۔

لنگر
تحریک دعوتِ فقر کی انتظامیہ نے شرکائے محفل کے لیے بہترین اور وسیع لنگرکا انتظام کیا ہوا تھا۔ لنگر انتظامیہ نے نہایت مہارت اور خوش اسلوبی کے ساتھ معزز مہمانان کو صف بہ صف بٹھایا اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے لنگرکی تقسیم شروع کی۔لنگر انتظامیہ کی یہی کوشش تھی کہ کوئی ایک شخص بھی لنگر سے محروم نہ رہے۔ حاضرین محفل لنگر سے خوب محظوظ ہوئے۔

خواتین کی محفل

خواتین کسی بھی شعبہ ہائے زندگی میں مردوں سے پیچھے نہیں۔ فقر و تصوف کے میدان میں بھی خواتین طالبانِ مولیٰ مردوں کے شانہ بشانہ معرفتِ الٰہی کا سفر طے کر رہی ہیں۔ جس طرح مرد حضرات کے لیے خانقاہ سلسلہ سروری قادری میں عظیم الشان محفل کا انعقاد ہوا‘ خواتین مریدین کے لیے بھی باقاعدہ محفل کا اہتمام کیا گیا تھا۔ خواتین کی محفل سلطان العاشقین ہاؤس میں حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی اہلیہ محترمہ کی زیر صدارت و زیر نگرانی منعقد ہوئی۔ خواتین کے جوش و جذبے کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جا سکتا ہے کہ محفل میں شرکا کی تعداد اندازے سے کہیں زیادہ تھی۔ یہاں بھی حمد و نعت اور فقرِ محمدیؐ پر بیانات پیش کیے گئے۔ درود و سلام اور دعا کے بعد حاضرینِ محفل کو لنگر پیش کیا گیا۔ سلطان العاشقین مردوں کی محفل کی صدارت فرمانے کے بعد خواتین کی محفل میں جلوہ افروز ہوئے۔ خواتین طالبانِ مولیٰ کی کثیر تعداد سلطان العاشقین کے دستِ اقدس پر بیعت ہونے کے لیے بے تاب تھی۔ بیعت ہونیوالی خوش نصیبوں کو ذکر و تصور اسم اللہ ذات عطا کیا گیا۔ اس کے علاوہ بہت سی طالبانِ مولیٰ کو اسم f بھی عطاکیا گیا۔ سلطان الفقر پبلی کیشنز کی طر ف سے نئی شائع کردہ کتابیں ’بیعت کی اہمیت و ضرورت‘ اور ’خانقاہ سلسلہ سروری قادری‘ تمام حاضرین کو تحفتاً مفت تقسیم کی گئیں۔
قارئین کرام! مرشد کامل اکمل کی بارگاہ تک پہنچنا اور اسکے دستِ اقدس پر بیعت ہونا اپنے آپ میں ایک بہت بڑی کامیابی ہے لیکن حقیقی کامیابی بیعت کے بعد حاصل ہونے والے ذکر و تصور اسم اللہ ذات کی پابندی اور باقاعدگی میں ہے۔ جیسے جیسے طالبِ مولیٰ ذکر و تصور اسم اللہ ذات کرتا جاتا ہے، اس کے نفس کے حجاب ہٹتے چلے جاتے ہیں اور وہ معرفتِ الٰہی میں ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔ نیت میں خلوص ہو تو یہ سفر کوئی مشکل اور طویل نہیں۔ طالبِ مولیٰ کے اپنے مرشد سے عشق اور مرشد کی مہربانی سے ایسے ایسے اسرار و رموز عیاں ہوتے جو نا قابلِ بیاں ہیں اور رفتہ رفتہ طالب اس قابل ہو جاتا ہے کہ مجلسِ محمدیؐ کی حضوری نصیب ہو سکے۔ یہی ایک بندۂ مومن کی معراج اور دنیا و آخرت کی کامیابی ہے کہ عالمِ ناسوت میں رہتے ہوئے عالمِ لاھوت تک رسائی حاصل کرے، معرفتِ الٰہی اور مجلسِ محمدیؐ جیسے اعلیٰ ترین باطنی مقامات پر فائز ہو کر اپنے ربّ کی بارگاہ میں سرخرو ہو جائے۔ 
اللہ ربّ العزت سے دعا ہے کہ ہمیں خلوصِ نیت اور استقامت کے ساتھ راہِ فقر پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے اور ہمارے مرشد پاک سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو ان کے فقر کے مشن میں کامیابی عطا فرمائے۔ آمین

اپنا تبصرہ بھیجیں