منشور

منشور

1۔  ”تحریک دعوتِ فقر” تما م مسلمانوں کو ”متحد ہو کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور آپس میں تفرقہ نہ ڈالو”کی دعوت دیتی ہے اور وہ رسی اسمِ اللہ ذات ہے۔

2۔  ”فقر ” حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کا حقیقی ورثہ ہے۔ مسلمانوں کو اسی ورثہ کو حاصل کرنے کی دعوت دیناہی تحریک کا منشور ہے۔

3۔  فقر کے حصول کے لیے ”ذکر و تصور اسمِ اللہ ذات” کی دعوت دینا۔ کیونکہ حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ کے قول کے مطابق اسی سے فقر یعنی دیدار حق تعالیٰ اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری حاصل ہوتی ہے اور ایک مسلمان مومن بن کر مرتبہ احسان پر فائز ہوتا ہے۔

4۔  لوگوں کو  (ترجمہ: دوڑو اللہ کی طرف)یعنی دوڑو اسمِ اللہ ذات کی طرف کی دعوت دینا ۔

5۔   رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی تعلیماتِ حقانیہ پر صدقِ دِل سے عمل کرنا ۔

6۔  غورو فکر یعنی تفکر کی دعوت دینا۔

7۔  بلا تفریق آپس میں محبت کو فروغ دینا اور دنیا سے نفرت کو ختم کرنا۔

 ”تحریک دعوتِ فقر” آپ کو دعوت دیتی ہے ذکر و تصورِ اسمِ اللہ ذات کی کیونکہ اسی سے!
 قلبی، نفسی اور روح کی بیماریوں سے نجات حاصل ہوتی ہے۔
 تزکیہۂ نفس ہوتا ہے۔
 تصفیہ قلب ہوتا ہے۔
 تجلّیہ روح کی منزل حاصل ہوتی ہے۔

 ذکر اور تصور اسمِ اللہ ذات کے بغیر مندرجہ ذیل منازلِ فقر کا حصول تو تقریباً ناممکن ہے!
 بارگاہِ حق تعالیٰ کی حضوری ۔
 مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری ۔

”تحریک دعوتِ فقر” میں شامل ہو کر اسمِ اللہ ذات کا ذکر اور تصور کریں۔ اور ”مقصدِ حیا ت” میں کامیاب و کامران ہو کر اللہ کی بارگاہ میں پیش ہو ں۔