بانی تحریک دعوتِ فقرسلطان محمد نجیب الرحمن

Sultan-ul-Ashiqeen-Sultan-Mohammad-Najib-ur-Rehman

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخِ کا مل ہیں۔ اس سلسلہ کا آغاز سرورِ کارئنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ہوا اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے توسط سے یہ امتِ مسلمہ میں منتقل ہوا۔سیدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ سے ہوتا ہوا سلطاان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ اور پھر ان سے سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ تک پہنچا جنہوں نے اس سلسلہ کا تمام تر روحانی ورثہ اور خزانۂ فقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو منتقل فرمایا۔

Abay-o-Ajdad

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا تعلق قوم آرائیں سے ہے جو حضرت حبیب الراعی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند حضرت حلیم الراعی رحمتہ اللہ علیہ کی اولاد ہیں جو محمد بن قاسم کے ساتھ تبلیغِ دین کے لیے ہندوستان تشریف لائے تھے۔ حضرت حبیب الراعی رحمتہ اللہ علیہ حضرت سلمان فارسی سے فیض یافتہ اعلیٰ ترین پائے کے ولی اللہ تھے جن کا تذکرہ حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اپنی مشہور تصنیف کشف المحجوب میں کیا ہے۔
آپ مدظلہ الاقدس کے والد عبد الحمید رحمتہ اللہ علیہ لڑکپن سے ہی تہجد گزار اور قائم الیل تھے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ نے زندگی میں فرض نماز تو دور کی بات تہجد اور اشراق تک قضا نہ کی تھی۔ سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی والدہ محترمہ کنیز فاطمہ رحمتہ اللہ علیہا بھی عاشقہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ، محب اہلِ بیتؓ،محب پیرانِ پیر غوث الاعظمؓ تھیں۔ آپ رحمتہ اللہ علیہا میلاد النبی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ، عاشورہ محرم اور دیگر اہم مواقع پر مذہبی و روحانی محافل بہت ذوق و شوق سے منعقد فرمایا کرتی تھیں ۔آپ مدظلہ الاقدس کا خاندان 1947ء میں ہندوستان کے ضلع جالندھر تحصیل نکودر کے گاؤں مدھاں سے ہجرت کرکے پاکستان میں فیصل آباد کے علاقے شاہ کوٹ میں آباد ہوا جہاں سے بعد ازاں آپ کے والد بہاولنگر میں آکر آباد ہو گئے۔

Wladat-Basadat

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس 19اگست1959(14صفر1379ھ) بروز بدھ بخشن خان تحصیل چشتیاں ضلع بہاولنگر پاکستان میں پیدا ہوئے۔

Bacpan-or-Taleem

Sultan-ul-Ashiqeen-3چونکہ آپ مدظلہ الاقدس ازل سے ہی خزانہ فقر کے لیے منتخب شدہ تھے اس لیے نورِ حق بچپن سے ہی آپ مدظلہ الاقدس کے چہرے پر نمایا ں تھا۔ جو بھی آپ کو دیکھتا بے اختیار ہو کر دیکھتا رہ جاتا۔ ایک بار ایک فقیر نے آپ مدظلہ الاقدس کی روشن پیشانی دیکھ کر آپ کی والدہ سے کہا کہ آپ کا یہ بیٹا بڑا سعید ہے۔ اللہ پاک نے اپنی ایک خاص تقدیر کو اس کی پیشانی پر رقم کر دیا ہے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کی باطنی زیرِ نگرانی اس کی خاص طرز پر تربیت کی جائے گی اور اسے زندگی کے تمام مراحل سے گزارا جائے گا”۔ ایک اور موقع پر کہنے لگا ”تیرا یہ بیٹا سردار ہے جس جگہ رہے گا سرداری کرے گا”۔ چونکہ آپ مدظلہ الاقدس کو مستقبل میں خزانۂ فقر کو سنبھالنے اور طالبانِ مولیٰ کی رہنمائی کی ایک عظیم ذمہ داری ادا کرنی تھی اس لیے اللہ تعالیٰ نے آغازِ حیات سے ہی آزمائشوں اور مشکلات کی کڑی بھٹی میں ڈال کر آپ کی تربیت کی۔

آپ مدظلہ الاقدس اپنے والدین کے بڑے بیٹے ہیں۔ چار سال کی عمر میں آپ کی دینی و دنیاوی تعلیم کا آغاز ہوا۔ آپ کی ذہانت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ آپ نے پانچویں جماعت سے ہی روزنامہ مشرق، مساوات، امروز وغیرہ میں بچوں کے صفحات پر اخلاقی نوعیت کے مضامین لکھنا شروع کر دئیے۔

آپ مدظلہ الاقدس کو بچپن سے ہی مذہب سے خصوصی لگاؤ تھا اور آپ کا فارغ وقت اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی ذات کے متعلق غوروفکر کرنے اور دین سے متعلق کتب پڑھنے میں گزرتا۔ انہی مشاغل کو جاری رکھتے ہوئے آپ مدظلہ الاقدس نے 1978ء میں ملتان بورڈ سے میٹرک اور 1983ء میں بہاؤ الدین زکریا یونیورسٹی سے فرسٹ ڈویژن میں بی اے کا امتحان پاس کیا۔

1984ء میں آپ مدظلہ الاقدس نے سرکاری ملازمت سے اپنی عملی زندگی کا آغاز کیا۔ جلد ہی آپ مدظلہ الاقدس لاہور منتقل ہو گئے اور 1987ء میں شادی کے بعد ایک خوشحال زندگی کا آغاز کیا۔ اس کے کچھ عرصہ بعد ہی آپ مدظلہ الاقدس کی زندگی کا رخ ہی تبدیل ہو گیا۔ دل میں اللہ کا قرب پانے کی چاہت شدت سے سر اُٹھانے لگی۔ تمام دنیاوی آسائشوں کے باوجود آپ کا دل بے چین تھا۔ کچھ تھا جس کی طلب نے آپ کو بے قرار کر رکھا تھا۔ اس طلب کی جستجو میں آپ مدظلہ الاقدس دن رات عبادات میں مصروف رہنے لگے۔ صرف عبادات ہی میں آپ کو سکون حاصل ہوتا۔

Sultan ul ashiqeen​صرف سینتیس سال کی عمر میں سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس دنیا او رمعاملاتِ دنیا سے بے زار ہو کر عشقِ حقیقی میں گم ہو چکے تھے۔ روح کی بے چینی اور بے سکونی نے باطن میں ہلچل مچا رکھی تھی جو اپنے محبوبِ حقیقی سے ملاقات کے لیے بے چین تھی۔ آپ مدظلہ الاقدس دنیاوی معاملات اور سرگرمیوں کو بالکل محدود کر کے زیادہ سے زیادہ وقت عبادات میں گزارنے لگے۔ دن رات تلاوتِ قرآنِ پاک، درود پاک اور اسمائے الٰہیہ کے ورد میں گزرنے لگے۔

Batnee-Bayat

صرف ایک ماہ بعد 12۔ اپریل 1997ء کی رات نمازِ تہجد کے بعد آپ مدظلہ الاقدس درود پاک پڑھ رہے تھے کہ باطن کا در کھل گیا اور خود کو باطنی طور پر مسجدِ نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) میں مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم میں پایا۔ نورِ ازل آقا و مولا سیّدنا حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام درمیان میں تشریف فرما تھے۔ آپ علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دائیں جانب حضرت علی کرم اللہ وجہہ‘ حضرت امام حسن رضی اللہ عنہٗ اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ اور بائیں جانب حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہٗ‘ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہٗ ‘ حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہٗ اور چاروں سلاسل کے مشائخ کرام تشریف فرما تھے۔ اس محفل میں حاضر ہوتے ہی اور اہلِ محفل کی ہیبت و جلال کو دیکھ کر آپ گنگ رہ گئے اور قریب تھا کہ خوف سے بے جان ہوکر گر جاتے کہ مولائے کائنات(حضرت علی کرم اللہ وجہہ) نے آگے بڑھ کر آپ مد ظلہ الاقدس کا ہاتھ اپنے دستِ مبارک میں لیا اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سامنے پیش کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) کے مبارک قدموں میں بٹھا دیا اور عرض کی حضور ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) یہ نجیب الرحمن ہے اور آپ ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) کا غلام ہے۔ یہ آپ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) کی نورِ نظر لختِ جگر (خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا) کا نوری فرزند ہے اور انہوں نے اس کو اپنا ورثہ عطا کرنے کے لیے منتخب فرمایا ہے اور اس مقصدکے لیے آپ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) کی بارگاہِ عالیہ میں بھیجا ہے۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس نے جب یہ سنا تو جلدی سے اپنی پیشانی اُن مبارک قدموں پر رکھ دی جن پر دونوں جہان نثار ہیں۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے فرمایا’’ہاں ہمیں سفارش پہنچ چکی ہے اور ہم نے اسے منظور بھی کر لیا ہے۔ اب یہ ہمارا بھی نوری حضوری فرزند ہے مگر ہم انہیں کس فرزندِ رسول( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) کا ورثہ عطا فرمائیں۔‘‘ حضرت امام حسن مجتبیٰ رضی اللہ عنہٗ نے عرض کی ’’نانا حضور( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ) اماں حضور(خاتونِ جنت رضی اللہ عنہا) نے انہیں ہمارا ورثہ عطا کرنے کا فرمایا ہے.‘‘ حضور  ( صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم )نے اپنے دونوں دستِ مبارک سے شانوں سے پکڑ کر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مد ظلہ الاقدس کو اپنے قدموں سے اٹھایا اور فرمایا’’ تو ہمارا نوری حضوری فرزند ہے، ہمارا وارث ہے۔ ایک زمانہ تجھ سے فیض پائے گا اور ہم تمہیں اپنی برہان بنائیں گے۔ تونے ہماری لختِ جگر نورِ نظر کو راضی کیا ہے ہم تجھ سے راضی ہوگئے ہیں۔‘‘ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے بیعت کے لیے دونوں دستِ مبارک آگے بڑھائے توآپ مد ظلہ الاقدس نے اپنے دونوں ہاتھ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے دستِ مبارک میں دے دئیے۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے آپ مد ظلہ الاقدس کو بیعت فرمایا اور اس کے بعد چاروں سلاسل کے مشائخ کی طرف نظر کی اور پیرانِ پیر سیّدنا غوث الاعظم حضرت شیخ عبد القادر جیلانی رضی اللہ عنہٗ سے فرمایا ’’اس کی وراثت آپ (رضی اللہ عنہٗ) کے پاس ہے۔‘‘ پھر آپ مد ظلہ الاقدس کا ہاتھ غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کے ہاتھ میں دیا اور فرمایا ’’یہ ہماری لختِ جگر (رضی اللہ عنہا) کا نور ی حضوری فرزند ہے۔ اب ہمارا اور آپ کا نوری حضوری فرزند ہے۔ ہم اس کو آپ      ( رضی اللہ عنہٗ) کے سپرد فرماتے ہیں۔ اس کی باطنی تربیت آپ  کے ذمہ ہے۔‘‘ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس فرماتے ہیں کہ یہ نعمتِ عظمیٰ پاکر میں نے محفل میں موجود اہلِ بیت اور چاروں خلفاء راشدین رضی اللہ عنہم کی قدم بوسی کی۔ سب نے آپ کو مبارکباد دی اور سرپر دستِ شفقت رکھا۔ بعدازاں حضرت غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام سے اجازت لے کر آپ مدظلہ الاقدس کو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے واپس لے آئے اور آپ کی باطنی تربیت شروع ہوگئی۔

Zahire-Bayat

باطن میں آپ مدظلہ الاقدس کی تربیت مکمل کرنے کے بعد غوث الاعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ نے آپ کو ظاہری مرشد کی تلاش کا حکم دیا۔ لیکن اس دھوکہ دہی اور فراڈ کی دنیا میں مرشد کامل کی تلاش بہت بڑی آزمائش ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے حقیقی مرشد کی تلاش میں لاہور اور لاہور سے باہر بہت سے سفر کیے۔ اس سلسلے میں بہت سے پیروں سے ملاقات ہوئی لیکن کسی کی طرف دل مائل نہ ہوا۔ فروری 1998ء کی ایک رات آپ مدظلہ الاقدس نے خواب میں ایک انتہائی نورانی صورت بزرگ کی زیارت کی جو فرما رہے تھے ”بیٹا ہم تمہارے انتظار میں ہیں چلے آؤ”۔ بیدار ہونے پر آپ مدظلہ الاقدس ان انجانے بزرگ کی تلاش میں نکل پڑے لیکن وہ من موہنی صورت کہیں دکھائی نہ دی۔ ایک ماہ اسی بے چینی اور بے سکونی کے عالم میں عبادات اور مرشد کامل اکمل کی تلاش میں گزر گیا۔ مارچ 1998ء میں پھر وہی بزرگ خواب میں تشریف لائے اور فرمایا ”بیٹا بڑی محنت کر لی اب چلے آؤ” اور چمکتے ہوئے اسم  ذات کی طرف اشارہ کر کے فرمایا کہ ”تمہاری یہ امانت کب سے ہمارے پاس تمہارا انتظار کر رہی ہے”۔ آخر کار 12۔ ۔اپریل 1998ء کو آپ مدظلہ الاقدس کی تلاشِ مرشد اختتام پذیر ہوئی جب آپ مدظلہ الاقدس غوث الاعظم رضی اللہ عنہ کی خواب میں دی گئی بشارت کے مطابق جھنگ میں حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے دربار کے قریب مقیم سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ سے ملنے تشریف لے گئے۔ کمرے میں داخل ہوتے ہی آپ مدظلہ الاقدس کو یوں محسوس ہوا کہ تمام دنیا کی دولت مل گئی ہے کیونکہ سامنے وہی خواب والی من موہنی صورت تشریف فرما تھی۔ یہ صورت سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کی تھی جنہوں نے آپ مدظلہ الاقدس کو دیکھتے ہی فرمایا ”آگئے ہو بیٹا ”۔ یہ ایسے الفاظ تھے جنہیں کمرے میں موجود کسی اور شخص نے نہ سنا۔ 12۔ اپریل 1998ء نمازِ مغرب کے بعد آپ مدظلہ الاقدس سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے دستِ مبارک پر بیعت ہو گئے اور پہلے ہی دن سے محبوبیت کے اعلیٰ مراتب پر فائز ہو گئے جو اس دن سے اب تک لمحہ بہ لمحہ ترقی پذیر ہیں۔ اس دن سے ہی آپ مدظلہ الاقدس نے اپنی زندگی کا ہر لمحہ، اپنی ذات کی ہر ظاہری و باطنی خوبی، تمام مال و دولتِ دنیا اپنے مرشد کی خوشنودی اور رضا کے لیے وقف کر دیا۔ عشقِ مرشد میں خود کو فنا کر دیا حتیٰ کہ مرشد کی ہی تصویر بن گئے۔

Sultan ul Faqrآپ مدظلہ الاقدس نے خدمتِ مرشد کی غرض سے لاتعداد ڈیوٹیاں ادا کیں اور بہت کٹھن آزمائشوں سے گزرے۔ مرشد کی ذات سے وابستہ ہر شے مثلاً ان کے ہر موسم کے ملبوسات، جوتے، دوائیاں، استعمال کی دیگر تمام اشیاء کی ذمہ داری خود پر لے لی۔ اسمِ  ذات کا فیض عام کرنے کے ان کے مشن کی کامیابی کے لیے دن رات کام کیا اور اس سلسلے میں پورے ملک کا کئی بار دورہ کیا اور لاکھوں لوگوں کو اسم ذات کی دعوت دے کر راہِ فقر پر گامزن کیا، اصلاحی جماعت کی تنظیم کے لیے بے حد مالی و بدنی خدمت کی۔  نومبر2001ء میں سلطان الفقر ششم رحمتہ اللہ علیہ نے آپ مدظلہ الاقدس کو اصلاحی جماعت لاہور کا سرپرست مقرر کیا تو آپ مدظلہ الاقدس نے اس کی تنظیم اس اعلیٰ انداز میں فرمائی کہ پورے ملک میں اصلاحی جماعت عملاً آپ مدظلہ الاقدس کی قیادت میں متحد ہو گئی اور آپ کی تبلیغ کے نتیجے میں لاکھوں لوگوں نے فیضِ فقر پایا۔جب سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے فقرکی تعلیمات عام کرنے کی غرض سے ایک ماہنامہ رسالہ مراۃ العارفین نکالنے کی ذمہ داری آپ مدظلہ الاقدس کو سونپی تو اس ذمہ داری کو احسن طریقے سے ادا کرنے کے لیے آپ نے دن رات ایک کر دیا اوررات رات بھر جاگ کر اپنی نگرانی میں رسالہ شائع کرواتے رہے۔ غرضیکہ آپ مدظلہ الاقدس نے خدمتِ مرشد میں کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ چھوڑا۔ اس دوران آپ مدظلہ الاقدس پر مرشد بھی اسی قدر مہربان رہے اور باطنی وروحانی منازل کے اعلیٰ ترین مقامات پر آپ مدظلہ الاقدس کو پہنچا دیا۔ تین سال کی کڑی آزمائشوں سے گزرنے کے بعد آپ مدظلہ الاقدس نے خود کو امانتِ فقر سونپے جانے کے لیے ہر طرح سے لائق اور مستحق ثابت کر دیا۔ 2001ء کے حج کے دوران حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے آپ مدظلہ الاقدس کو حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کی بارگاہ میں پیش کیا۔ حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام نے بھی آپ مدظلہ الاقدس کے امانتِ الٰہیہ کے وارث اور سلسلہ سروری قادری کے آئندہ شیخ ہونے کے فیصلے پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی۔
26دسمبر 2003ء میں اپنے وصال سے قبل سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی دو سال تک مسندِ تلقین و ارشاد سنبھالنے کے لیے باطنی تربیت فرمائی اور پھر اپنی تمام روحانی و باطنی قوتوں کو امانتِ فقر کی صورت میں سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے حوالے کر کے دنیا سے پردہ فرما لیا۔

Masnad-e-Talqeen-o-Irshad

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے سلسلہ سروری قادری کے اکتیسویں شیخ کے طور پر مسندِ تلقین و ارشاد کا آغازبحکمِ الٰہی و اجازت ِ نبوی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم  اپنے مرشد کے وصال کے بعد سے فرما دیا۔ ظاہری طور پر آپ مدظلہ الاقدس نے بیعت فرمانے اور اسم ذات عطا کرنے کا سلسلہ 14۔ اگست 2005ء سے شروع فرمایا۔ اس دن سے آج تک سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے خزانہ فقر کے فیض کو تمام اُمت تک پہنچانے کے لیے شدید جدوجہدکی ہے اور انقلابی اقدامات اُٹھائے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کے مسندِ تلقین و ارشاد سنبھالنے سے قبل طالبانِ مولیٰ کو اسمِ ذات کا ذکر چار منازل میں ترتیب وار عطا کیا جاتا تھا۔ طالبِ مولیٰ کو پہلے اسمائے اعظم   اور پھر سلطان الاذکار ”” کا ذکر عطا کیا جاتا تھا اور ان اذکار میں ترقی کے ساتھ ساتھ وہ قربِ الٰہی میں بھی ترقی کرتا تھا۔ اس میں بہت عرصہ بھی لگ جاتا تھا اور بہت سے طالب اپنی طلب میں ناقص ہونے کی وجہ سے ابتدائی منازل پار نہ کرنے کی وجہ سے” ھُو” تک کبھی پہنچ ہی نہ پاتے تھے۔ آپ مدظلہ الاقدس نے اپنی روحانی قوت اور تصرف کی بنا پر طالبانِ مولیٰ کے لیے یہ منازل آسان ترین کر دی ہیں اور  بیعت کے پہلے دن ہی سلطان الاذکار ”ھُو” کا ذکر اور اسمِ ذات تصور کے لیے عطا فرماتے ہیں۔ بے شک یہ آپ مدظلہ الاقدس کے بارگاہِ ربوبیت میں انتہائی قرب اور اعلیٰ مقام کی نشانی اور دلیل ہے کیونکہ جو ذات جتنی قربِ الٰہی کے مقام پر ہوگی وہ اتنی ہی جلد اپنے طالبوں کو قربِ خداوندی دلانے کی استطاعت رکھتی ہوگی۔ شیخ اکبر محی الدین ابن عربی رحمتہ اللہ علیہ فتوحاتِ مکیہ جِلد دوم میں فرماتے ہیں ”ھُو عارفین کا آخری اور انتہائی ذکر ہے”۔ سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُو رحمتہ اللہ علیہ بھی فرماتے ہیں ”ذاکراں را انتہا ھُو شد تمام” ترجمہ:ذکرِ ”ھُو” ذاکرین کا آخری ذکر ہے” اس سے مراد یہ ہے کہ یہاں ذکر کی انتہا ہو کر دیدارِ ذاتِ حق کی ابتدا ہوتی ہے۔

اسمِ ذات کے ذکر و تصور میں کامل ہونے کے بعد طالبانِ مولیٰ کو فقر کی تاریخ میں پہلی بار ”اسمِ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ”کا تصور بھی آپ مدظلہ الاقدس کی مہربانی سے عطا کیا جارہا ہے۔ اسم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے تصور کے متعلق حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں ”جب طالب اسم  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو اپنے تصور میں لاتا ہے تو بے شک سرورِ کائنات صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی روحِ مبارک مع اصحاب کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نہایت لطف و کرم سے تشریف فرما ہوتی ہے۔ صاحبِ تصور کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم فرماتے ہیں”میرا ہاتھ پکڑ” آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا ہاتھ پکڑتے ہی طالب کا دل معرفتِ الٰہی کے نور سے روشن ہو جاتا ہے” (کلیدِ جنت)۔ اسمِ  صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا یہ معجزانہ کمال صرف تبھی ظاہر ہوتا ہے جب یہ کسی کامل اکمل مرشد سے حاصل ہوا ہو۔

sultan ul ashiqeen

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس صاحبِ مسمّٰی سروری قادری مرشد کامل کامل جامع نور الہدیٰ کی تمام صفات کا مجموعہ ہیں۔ سروری قادری مرشد کے تمام تصرفات اور کمالات آپ مدظلہ الاقدس کی مبارک ذات میں جمع ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنے تصرف ، اختیار اور نگاہ کے کمال سے اپنے مریدوں اور طالبانِ مولیٰ کے نفسوں کا تزکیہ اور قلوب کا تصفیہ کرکے انہیں آئینے کی مانند شفاف بنا دیتے ہیں۔ذکر و تصورِ اسمِ  ذات کے ذریعے انہیں تمام خصائص رذیلہ سے پاک کرکے اوصافِ حمیدہ سے مزین کرتے ہیں اور ظلمت و جاہلیت سے نکال کر نورِ معرفت عطا فرماتے ہیں جن کی روشنی میں وہ اپنے من میں اپنے ربّ کا قرب اور پہچان حاصل کرتے ہیں۔ آپ مدظلہ الاقدس کے فیض بے بہا کی بدولت بہت سے طالبانِ مولیٰ مجلسِ محمدی کی حضوری اور لقائے الٰہی جیسی لازوال نعمتوں سے مالامال ہو چکے ہیں۔

Dawat-e-Faqr-ka-leye-Jadojhad

Tehreek-Dawat-e-Faqr-ka-Qayam

دنیا بھر فقر، جو دینِ اسلام کی حقیقی روح اور اللہ کا قرب و دیدار حاصل کرنے کی باطنی راہ ہے، کی دعوت کو منظم طریقے سے عام کرنے کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے2009ء میں تحریک دعوتِ فقر کی بنیاد رکھی۔ تحریک دعوتِ فقر ایک رجسٹرڈ اور غیر سرکاری و غیر سیاسی جماعت ہے جس کا فرقہ واریت سے کوئی تعلق نہیں۔

دنیا بھر کے مسلمانوں کو تحریک دعوتِ فقر سے منسلک ہو کر راہِ فقر اختیار کرنے اور اسمِ  ذات کے ذکر و تصور کے ذریعے قرب و معرفتِ الٰہی کی منازل طے کر کے دیدارِ الٰہی اور مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی حضوری حاصل کرنے کی عام دعوت ہے۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے فقر کا فیض عام کر دیا ہے اور دنیا کے ہر کونے میں مسلمانوں کو بیعت اور بغیر بیعت کے ذکر و تصورِ اسمِ  ذات عطا کر رہے ہیں۔ فرقوں، مسلکوں اور گروہوں کی تفریق کے بغیر تحریک دعوتِ فقر کے دروازے ہر اس مسلمان کے لیے کھلے ہیں جو اپنی روحانی پاکیزگی کے حصول کا خواہاں اور تزکیۂ نفس وتصفیۂ قلب کے ذریعے قرب و دیدارِ الٰہی حاصل کرنا چاہتا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس اپنی روحانی قوت و تصرف کے باعث طالبوں کو بغیر ریاضت و مشقت اور چلہ کشی یا لمبے ورد و وظائف کے بغیر محض اپنی نگاہِ کامل سے پاک فرما رہے ہیں۔ اس مادی دنیا میں یہ نعمتِ بیش بہا تمام مسلمانوں کے لیے عام ہے۔ جو آنا چاہے دروازے کھلے ہیں ورنہ حق بے نیاز ہے۔

بیعت کے لیے پاکستان میں مقیم حضرات کے لیے ظاہری ملاقات ضروری البتہ لاہور کے علاوہ دوسرے شہروں میں رہنے والی خواتین اور دوسرے ممالک کے خواتین و حضرات کے لیے آن لائن بیت کی سہولت بھی موجود ہے۔

تحریک دعوتِ فقر کے مندرجہ ذیل شعبہ جات فقر کی ترویج و اشاعت کے لیے دِن رات جد وجہد میں مصروفِ عمل ہیں:
(1) شعبہ دعوت
(2) شعبہ نشر واشاعت
(3) ملٹی میڈیا ڈیزائن اینڈ ڈویلپمنٹ
(4) ڈیجیٹل پروڈکشن
(5) شعبہ بیت المال
(6) شعبہ قیام و طعام
(7) شعبہ سیکورٹی

Sultan-ul-Faqr-Publications

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے اگست 2006ء میں سلطان الفقر پبلیکیشنز(رجسٹرڈ) کی بنیاد رکھی اور کتب و رسائل کے ذریعے فقر کی تعلیمات کو عام کرنا شروع کیا۔ اگست2006ء سے ہی یہ ادارہ کامیابی سے ہر ماہ ماہنامہ سلطان الفقر شائع کر رہا ہے جس میں فقر و تصوف کی تعلیمات پر مبنی مضامین اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم ، صحابہ کرامؓ اور اولیاء کرامؒ کی حیاتِ مبارکہ کے متعلق مضامین شائع کیے جاتے ہیں۔ اس ادارے کے تحت سلطان العاشقین مدظلہ الاقدس کی زیرِ نگرانی بہت سی کتب شائع کی جاچکی ہیں جن میں سے زیادہ تر کتب سلطان العاشقین مدظلہ لاقدس کی ذاتی تصانیف اور آپ مدظلہ الاقدس کی علمِ فقر و تصوف اور تاریخِ اسلام پر مکمل دسترس کا بین ثبوت ہیں۔ان میں سے بہت سی کتب کا انگریزی میں ترجمہ بھی شائع کیا جا چکا ہے۔اس کے علاوہ آپ مدظلہ الاقدس کی زیرِنگرانی حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی تمام تر فارسی کتب کا اردو اور انگریزی میں ترجمہ بھی شائع کیا جارہا ہے تاکہ حضرت سلطان باھو ؒ کی تعلیمات کو دنیا بھر میں عام کیا جا سکے۔
ماہنامہ سلطان الفقر اور سلطان الفقر پبلیکیشنز (رجسٹرڈ) کی تمام کتب مندرجہ ذیل ویب سائٹ پر آن لائن بھی پڑھی جاسکتی ہیں اور مفت ڈاؤن لوڈ بھی کی جا سکتی ہیں۔
www.mahnama-sultan-ul-faqr-lahore.com
www.sultan-ul-faqr-publications.com

Multimeda-and-Design-Delopment

دعوتِ فقر کو موجودہ زمانے میں زیرِ استعمال الیکٹرانک ذرائع ابلاغ کے ذریعے پھیلانے کے لیے آپ مدظلہ الاقدس نے ملٹی میڈیا ڈیزائن اینڈ ڈویلپمنٹ کا شعبہ قائم کیا ہے۔ اس شعبہ کے تحت مندرجہ ذیل ویب سائٹس موجود ہیں:
www.tehreekdawatefaqr.com
www.sultanulfaqr.com
سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کی حیاتِ طیبہ پر معلومات اور ان کی کتب مندرجہ ذیل ویب سائٹس پر موجود ہیں:
www.sultan-bahoo.com
www.sultan-ul-arifeen.com
اس شعبہ نے www.sultan-ul-ashiqeen.com کے نام سے بھی ایک ویب سائٹ خصوصی طور پر تیار کی ہے جس پر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کے متعلق تفصیلات اور اُن کی تحریر کردہ کتب مہیا کی گئی ہیں تاکہ آپ مدظلہ الاقدس کے عقیدتمند آپ مدظلہ الاقدس کے متعلق جان سکیں۔
سلطان الفقر ڈیجیٹل پروڈکشنز اس شعبہ کے تحت کام کرنے والا ذیلی شعبہ ہے جس کا کام آڈیوز اور ویڈیو زکے ذریعے دعوتِ فقر عام کرناہے۔ اس شعبہ کے زیرِ اہتمام بنائی جانے والی حمد ، نعت، عارفانہ کلام، کلامِ اقبالؒ ، ابیاتِ باھُوؒ ، کلام میاں محمد بخشؒ اور کلام مشائخ سروری قادری کی آڈیوز ، ویڈیوز اور عرس مشائخ سروری قادری ، محرم الحرام اور میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم پر منعقد ہونے والی محافل کی ویڈیوز بھی اس ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔
sultanulfaqr.tv

www.sultan-ul-faqr-digital-productions.com

Khaqha-Silsila-Sawari-Qadri

قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
ترجمہ : ”ان گھروں میں کہ جن کو بلند کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے دیا ہے ذکر کیا جاتا ہے اسمِ  کا۔ (یہ وہ گھر ہیں کہ اللہ والے) ان میں اللہ کی تسبیح بیان کرتے ہیں صبح شام” (النور۔36)۔

اس آیت کریمہ میں وہ گھر جن میں صبح شام ذکرِ الٰہی کیا جاتا ہے، سے مراد ”خانقاہ” ہے جہاں طالبانِ مولیٰ ہر لمحہ صبح شام ذکرِ الٰہی میں مصروف رہتے ہیں اور اس ذکرِ الٰہی کے ذریعے روحانی پاکیزگی اور تعلق باللہ میں مضبوطی حاصل کرتے ہیں۔ طالبانِ مولیٰ کی روحانی پاکیزگی کے لیے خانقاہوں کا قیام تمام اولیاء اللہ کی سنت رہا ہے اور اسی سنت پر عمل کرتے ہوئے مرشد کامل اکمل سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس خانقاہ سلسلہ سروری قادری کا قیام عمل میں لائے ہیں جس کے دروازے تمام پُر خلوص طالبانِ مولیٰ کے لیے، فرقے، گروہ، ذات پات، رنگ و نسل کے فرق کے بغیر کھلے ہیں۔ سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس دنیا بھر کے طالبانِ مولیٰ کو بیعت اور بغیر بیعت کے ذکر اور تصورِ اسمِ  ذات عطا کر رہے ہیں۔ جو لوگ بیعت کے خواہش مند ہیں ان کے لیے ایک بار ذاتی ملاقات ضروری ہے البتہ بیرونِ ملک رہائش پذیر مسلمانوں کو بغیر بیعت کے ٹیلی فون پر بھی ذکر اور تصورِ اسمِ  ذات کی اجازت دے دی جاتی ہے۔ اس مقصد کے لیے اسمِ ذات انہیں بذریعہ ڈاک ارسال کر دیا جاتا ہے۔

خانقاہ سلسلہ سروری قادری کا پتہ :
A/4-5 ایکسٹینشن ایجوکیشن ٹاؤن وحدت روڈ لاہور(پوسٹل کوڈ 54790) پاکستان ۔
ای میل: sultanulfaqr@tehreekdawatefaqr.com
فون نمبر: 35436600-042-0092

موبائل نمبر: 4737607-300-0092 , 4699975-345-0092

khanqa

Salana-Mhafil-Ka-anqad

مسندِ تلقین و ارشاد سنبھالنے کے بعد طالبانِ مولیٰ کی تعلیم و تلقین کے لیے سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس نے ملاقات اور محافل کا آغاز فرمایا تاکہ طالبانِ مولیٰ ’’صحبتِ مرشد‘‘ کے فیض سے مالا مال ہوسکیں ۔
آپ مدظلہ الاقدس ہر سال 12 ربیع الاوّل کو جشنِ میلادِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سلسلہ میں ایک عظیم الشان روحانی محفل منعقد فرماتے ہیں جس میں پاکستان بھر سے لوگ شرکت کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ ایک روحانی محفل سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھُوؒ ، سلطان الاولیا حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ اور سلطان الفقر حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کے عرس مبارک کے سلسلہ میں منعقد ہوتی ہے اور ایک عظیم الشان محفل میلادِ مصطفیؐ بسلسلہ یومِ منتقلی امانتِ الٰہیہ 21مارچ2001ء کی یاد میں ہر سال 21مارچ کو منعقد ہوتی ہے۔ ان محافل میں دور و نزدیک سے مریدین و معتقدین جوش و خروش سے شرکت کرتے ہیں۔
سلطان العارفین سلطان باھُوؒ کے خلیفہ اکبر سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ کے عرس مبارک کی عظیم الشان دو روزہ محفل پاک دربار سیّد محمد عبداللہ شاہؒ پر احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور میں منعقد ہوتی ہے جس میں ملک بھر سے معتقدین ‘محبین و مریدین اور قرب و جوارسے لوگوں کی کثیر تعداد نہایت جوش و جذبے سے شرکت کرتی ہے اور فیض یاب ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ خانقاہ سلسلہ سروری قادری میں دیگر روحانی محافل کا انعقاد بھی کیا جاتا ہے جن میں10 محرم الحرام کوسیّد الشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہٗ کی یاد میں محفل منعقد ہوتی ہے اور ربیع الثانی میں عرس سیّدنا غوث الاعظم رضی اللہ عنہٗ کے سلسلہ میں بڑی گیارہویں شریف کا اہتمام کیا جاتا ہے۔

Mehfil

فقر و روحانیت کے اعلیٰ ترین درجات پر فائز ہونے کی بنا پر اور اس مادہ پرست دور میں فقر کو دنیا بھر میں عام کرنے کے لیے کی جانے والی بے مثال جد وجہد کو سراہتے ہوئے سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور مشائخ سروری قادری کی طرف سے بہت سے خوبصورت القاب سے نوازا گیا ہے۔ آپ مدظلہ الاقدس کے عشقِ الٰہی، عشقِ مصطفی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم اور لازوال عشقِ مرشد کی بنا پر آپ کو ’’سلطان العاشقن ‘‘کے لقب سے نوازا گیا ہے۔ فقر در حقیقت اللہ کا عشق ہی ہے اور آپ مدظلہ الاقدس اللہ کے عاشقوں کے سلطان ہیں ۔’’سلطان محمد‘‘ بھی آپ مدظلہ الاقدس کا لقب ہے جو آپ کو بارگاہِ غوث الاعظمؓ سے عطا ہوا۔ باطن میں تمام اولیاء آپ کو اسی لقب سے یاد فرماتے ہیں۔’’سلطان‘‘ حضرت سخی سلطان باھوؒ کے سلسلہ سے منسلک تمام سروری قادری مشائخ کے نام کا حصہ ہے جو ان سے نسبت کو بھی ظاہر کرتا ہے اور ان کے اپنے زمانے میں فقر کا بادشاہ ہونے کی بھی علامت ہے۔ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں’’ھو‘‘ سلطان الاذکار ہے۔جوھو میں فنا ہو گیا وہی سلطان ہے۔‘‘ اسی طرح ’’سخی‘‘ بھی مشائخ سروری قادری مشائخ کے نام کا حصہ ہے کیونکہ یہ مشائخ خرانۂ فقیر اور دولتِ ایمان کو تمام امت میں سخاوت سے تقسیم کرتے ہیں۔
آپ مدظلہ الاقدس کو مجلسِ محمدی صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے ملنے والے دیگر القابات میں شبیہ غوث الاعظم، آفتابِ فقر، شانِ فقر بھی شامل ہیں اور آپ کے مریدین نے آپ کے لیے سلطان الذاکرین کا لقب متفقہ طور پر چنا ہے۔
آپ مدظلہ الاقدس کی کنیت ’’ابوالمرتضیٰ‘‘ ہے جو آپ مدظلہ الاقدس کے مرشد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ نے آپ کو عطا فرمائی۔ آپ مدظلہ الاقدس کے بہت سے مضامین اس کنیت سے بھی شائع ہو چکے ہیں ۔’’خادم سلطان الفقر‘‘ بھی ایک عرصہ تک آپ کے نام کا حصہ رہا جو آپ کی اپنے مرشد سے عشق و عاجزی کا اظہار ہے۔

باطنی کمالات کے ساتھ ساتھ آپ مدظلہ الاقدس ظاہری حسن و جمال میں بھی کامل و مکمل ہیں۔ اسمِ  ذات کا نور آپ کے رگ و پے اور ہر روئیں سے عیاں ہے۔ باطن کی نگاہ سے دیکھنے والوں کو تو یہ نور واضح طور پر آپ کی ذاتِ اقدس میں درخشاں نظر آتا ہے جو انہیں مسحور کر دیتا ہے، ظاہری نگاہ سے دیکھنے والے بھی آپ کی سحر انگیز شخصیت سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتے۔ آپ مدظلہ الاقدس کا قد میانہ ہے لیکن محفل میں ہمیشہ آپ سب سے دراز قد نظر آتے ہیں۔ چہرہ مبارک اسمِ  ذات کی تفسیر اور دستِ مبارک عشقِ الٰہی کے مے خانے ہیں مبارک انگلیاں نور کی ڈلیاں اور مبارک پیر فقر کی راہ کے رہنما ہیں۔ غرضیکہ لفظوں کو یادا نہیں کہ آپ کے حسن و جمال کا مکمل احاطہ کرسکیں۔

Husn-e-Ikhlaq

سلطان العاشقین کی شخصیت اور اخلاق قرآن و حدیث کی تفسیر ہے۔ آپ کا مبارک وجود اس حدیثِ قدسی کا مکمل نمونہ ہے۔
میرا بندہ جب زائد نوافل کے ذریعے میرے قریب ہو جاتا ہے تو میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں۔ پس میں اس کے کان بن جاتا ہوں وہ ان سے سنتا ہے ، میں اس کی آنکھیں بن جاتا ہوں جن سے وہ دیکھتا ہے، اس کے ہاتھ بن جاتا ہوں جن سے وہ پکڑتا ہے اور اس کے پاؤں بن جاتا ہوں جن سے وہ چلتا ہے۔(بخاری شریف۔963)
اللہ تعالیٰ کے دوستوں کی یہ صفت ہے کہ ان کی گفتار، سانسوں ،لباس، رہائش حتیٰ کہ ان کے قدموں کی خاک اور وہ جگہ جہاں وہ ایک دِن کے لیے ٹھہرے ہوں، میں برکتیں موجودہوتی ہے۔(منہاج العابدین)
حضرت ابنِ عمرؓ فرماتے ہیں:’’اللہ کے کچھ ولی ایسے ہیں جنہیں اللہ نے لوگوں کی مدد کرنے اور انہیں تکلیف سے نجات دلانے کی صلاحیت عطا کی ہے اور لوگ اپنے مسائل کے حل کے لیے ان کی طرف رجوع کرتے ہیں۔‘‘(جامع الصغیر)
عاجزی اور انکساری آپ مدظلہ الاقدس کی شخصیت کا خاصہ ہے۔ اعلیٰ ترین روحانی مقامات پر فائز ہونے کے باوجود آپ خود کو ایک عام انسان ظاہر کرتے ہیں اور ہر ایک سے خندہ پیشانی سے ملتے ہیں خواہ وہ انسان کسی بھی طبقے، پیشے مقام و مرتبے کا حامل ہو۔آپ کی فضیلت کا معیار صرف تقویٰ ہے۔
فہم و فراست اور ظاہری و باطنی علم میں بھی آپ مدظلہ الاقدس مرتبۂ کمال کے حامل ہیں۔ آپ کی کتب اور گفتگو اس کمال کی گواہ ہیں اگرچہ آپ خاموشی پسند فرماتے ہیں لیکن جب آپ گفتگو فرماتے ہیں تو آپ کا ایک ایک لفظ حکمت و علمِ لدنی کا شاہکار ہوتا ہے۔

آپ مدظلہ الاقدس ایک درد مند دل رکھتے ہیں اپنے مریدین کو اولاد کی طرح چاہتے اور ان کے دکھ درد میں شریک ہوتے ۔ آپ مدظلہ الاقدس کی ایک ہی نگاہ مرید کے ناصرف نفس کا تزکیہ اور قلب کا تصفیہ کرتی ہے بلکہ اسے ظاہری دنیاوی دکھوں سے بھی نجات دلاتی ہے بشرطیکہ مرید خالص ہو اور مکمل اعتقاد سے آپ کی بارگاہ حاضر ہو۔
دنیا و آخرت میں بھلائی چاہنے اور قرب و دیدارِ الٰہی کی خالص خواہش لے کر آپ کی بارگاہ میں حاضر ہونے کبھی بھی خالی ہاتھ نہیں لوٹتا۔

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کی مکمل سوانحِ حیات اور تعلیمات کے مطالعہ کے لیے اس ویب سائٹ پر کلک کریں۔  www.sultan-ul-ashiqeen.com