مشائخ سروری قادری

Swahn-e-Hayat-Mashaikh-Sawari-Qadri

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھورحمتہ اللہ علیہ

سلطان العارفین حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ یکم جمادی الثانی 1039ھ (17۔ جنوری1630ء) بروز جمعرات بوقت فجر شاہجہان کے عہدِ حکومت میں قصبہ شورکوٹ ضلع جھنگ ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ اعوان قبیلہ سے تعلق رکھتے ہیں اور اعوانوں کا شجرہ نسب حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم سے جا ملتا ہے۔ اعوان حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کی غیر فاطمی اولاد ہیں۔ 

سلطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ

لطان التارکین حضرت سخی سلطان سیّد محمد عبداللہ شاہ مدنی جیلانی رحمتہ اللہ علیہ 29رمضان المبارک 1186ھ (24دسمبر 1772ء) جمعتہ المبارک کی شب مدینہ منورہ میں پیدا ہوئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا پدرانہ شجرہ نسب حضرت شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے ذریعے حضرت علی کرم اللہ وجہہ تک پہنچتا ہے جبکہ والدہ کی طرف سے آپ رحمتہ اللہ علیہ کاشجرہ نسب امام سیّد محمد تقی رضی اللہ عنہٗ کے توسط سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم تک جا پہنچتا ہے۔ حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ کے مرشد سیّد عبدالرحمن جیلانی رحمتہ اللہ علیہ سیّد عبداللہ شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے پردادا ہیں۔ سیّد عبداللہ شاہ کے دادا سیّد عبدالعزیز 1696ء میں دہلی سے بغداد تشریف لے گئے پھر 1698ء میں مدینہ منتقل ہو گئے اور وہیں مستقل سکونت اختیار کر لی۔

 

سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہ ہاشمی قریشی رحمتہ اللہ علیہ

سلطان الصابرین حضرت سخی سلطان پیر محمد عبدالغفور شاہ ہاشمی قریشی رحمتہ اللہ علیہ 14۔ ذوالحجہ1242ھ (9جولائی 1827ء) بروز سوموار نمازِ مغرب کے وقت چوٹی ضلع ڈیرہ غازی خاں ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں فضل شاہ رحمتہ اللہ علیہ کے گھر پیدا ہوئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا شجرہ نسب چھبیس واسطوں سے حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے چچا سیّد الشہداء حضرت امیر حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ سے جا ملتا ہے۔

 

شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدی رحمتہ اللہ علیہ

شہبازِ عارفاں حضرت سخی سلطان پیر سیّد محمد بہادر علی شاہ کاظمی المشہدی رحمتہ اللہ علیہ 16۔ اگست1801ء(5 ربیع الثانی 1216ھ) بروز اتوار بوقت فجر قصبہ حسووالی تحصیل شورکوٹ ضلع جھنگ ہندوستان (موجودہ پاکستان) میں پیدا ہوئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا قبیلہ ایران کے شہر مشہد سے ہجرت کر کے پنجاب کے موجودہ ضلع راولپنڈی کے قریب آکر آباد ہوا۔حضرت امام بری رحمتہ اللہ علیہ کا تعلق بھی اسی قبیلہ سے ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا سلسلۂ نسب حضرت امام موسیٰ کاظم رضی اللہ تعالیٰ عنہٗ کے توسط سے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے جا ملتا ہے۔ اسی مناسبت سے کاظمی اور المشہدی آپ رحمتہ اللہ علیہ کے نام کا حصہ ہے۔

 

سلطان الاولیاء حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیزرحمتہ اللہ علیہ

سلطان الاولیاء حضرت سخی سلطان محمد عبدالعزیز رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت 12۔ مارچ 1911ء (12۔ ربیع الاول 1329ھ) بروز اتوار بوقت سحر قصبہ سمندری دربار حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ گڑھ مہاراجہ ضلع جھنگ پاکستان میں ہوئی۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ سلطان العارفین رحمتہ اللہ علیہ کی بشارت کے مطابق ختنہ شدہ اور ناف بریدہ پیدا ہوئے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کا شجرہ نسب آٹھویں پشت میں حضرت سخی سلطان باھو رحمتہ اللہ علیہ سے جا ملتا ہے۔ آپ رحمتہ اللہ علیہ کے والد محترم سلطان فتح محمد رحمتہ اللہ علیہ درویش منش انسان تھے۔

 

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ

سلطان الاولیاء حضرت سخی سلطان محمد عبد العزیز رحمتہ اللہ علیہ کے وصال کے بعد سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ مسندِ تلقین و ارشاد پر فائز ہوئے۔ سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ کی ولادت باسعادت 14اگست 1947ء (27رمضان المبارک1366ھ) بروز جمعتہ المبارک بوقتِ سحر قصبہ سمندری گڑھ مہاراجہ ضلع جھنگ پاکستان میں ہوئی۔

 

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس

سلطان الفقر ششم حضرت سخی سلطان محمد اصغر علی رحمتہ اللہ علیہ سے امانتِ الٰہیہ خزانۂ فقر سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کو منتقل ہوا جو موجودہ دور میں سلسلہ سروری قادری کے امام اور شیخِ کامل ہیں۔

سلطان العاشقین حضرت سخی سلطان محمد نجیب الرحمن مدظلہ الاقدس کا تعلق قوم آرائیں سے ہے جو حضرت حبیب الراعی رحمتہ اللہ علیہ کے فرزند حضرت حلیم الراعی رحمتہ اللہ علیہ کی اولاد ہیں جو محمد بن قاسم کے ساتھ تبلیغِ دین کے لیے ہندوستان تشریف لائے تھے۔ حضرت حبیب الراعی رحمتہ اللہ علیہ حضرت سلمان فارسی سے فیض یافتہ اعلیٰ ترین پائے کے ولی اللہ تھے جن کا تذکرہ حضرت داتا گنج بخش رحمتہ اللہ علیہ نے بھی اپنی مشہور تصنیف کشف المحجوب میں کیا ہے۔